ہنگامی حالات میں گھبرانے کی بجائے سمجھداری، حوصلے اور نظم و ضبط سے کام لینا نہایت ضروری ہے: سعدیہ راشد

ہنگامی حالات میں گھبرانے کی بجائے سمجھداری، حوصلے اور نظم و ضبط سے کام لینا نہایت ضروری ہے: سعدیہ راشد

کراچی: ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر اور ہمدرد نونہال اسمبلی کی قومی صدر سعدیہ راشد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی حالات میں گھبرانے کی بجائے سمجھداری، حوصلے اور نظم و ضبط سے کام لینا نہایت ضروری ہے انہوں نے واضح کے اگر صرف اداروں پر انحصار کافی نہیں بلکہ ہم سب کو اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات 10 فروری 2026 کو ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ ہمدرد نونہال اسمبلی کے اجلاس بیت الحکمہ آڈیٹوریم، مدینۃ الحکمہ میں  اسمبلی کے موضوع "ہنگامی حالات میں نقصان ذمہ داری کس کی”پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی حالات میں گھبرانے کے بجائے سمجھداری، حوصلے اور نظم و ضبط سے کام لینا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف اداروں پر انحصار کافی نہیں بلکہ ہم سب کو اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔

سعدیہ راشد نے مزید کہا کہ ہنگامی صورتحال میں سب سے اہم چیز حوصلہ اور بروقت فیصلہ سازی ہے۔ اگر کہیں آگ لگ جائے تو فوراً دوسروں کو آگاہ کریںں ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دیں اور منظم انداز میں محفوظ راستوں سے باہر نکلیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو ترجیح دی جائے اور دھوئیں سے بچنے کے لیے زمین کے قریب رہنے کی کوشش کی جائے۔ آگ بجھانے والے آلات اور ایمرجنسی ایگزٹس کی موجودگی اور درست استعمال بھی بے حد اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمدرد نونہال اسمبلی کا مقصد بچوں میں شعور، ذمہ داری اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے، کیونکہ آج کا باشعور نونہال ہی کل کا ذمہ دار شہری بنتا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ آئیں ہم سب مل کر آگاہی، تیاری اور احتیاط کے ذریعے اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کا عہد کریں۔

سعدیہ راشد نے ریسکیو 1122 کی ٹیم کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس پروگرام کے لیے اپنا قیمتی وقت دیا، اور امید ظاہر کی کہ آج موجود بچے فراہم کی گئی ہدایات اور تربیت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر آفت اور مصیبت سے محفوظ رکھے۔  ڈپارٹمنٹ آف ریسرچ ڈیولپمنٹ اور ایجوکیشن کی سربراہ ڈاکٹر سیدہ نادیہ رضوی نے نونہال اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہنگامی حالات کسی بھی وقت اور کہیں بھی پیش آ سکتے ہیں، اس لیے بچوں میں آگاہی اور خود حفاظتی شعور پیدا کرنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے سعدیہ راشد اور ہمدرد یونیورسٹی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس اہم پروگرام کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا۔

اس موقع پر انہوں نے ایک معلوماتی پریزنٹیشن بھی دی جبکہ ویڈیو ڈاکومنٹری کے ذریعے بچوں کو بتایا گیا کہ آگ، حادثات اور دیگر ایمرجنسی صورتحال میں کس طرح بروقت اور درست فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر سیدہ نادیہ رضوی نے کہا کہ زندگی ایک لمحے میں بدل سکتی ہے، مگر صحیح معلومات اور بنیادی لائف سیونگ اسکلز انسان کو مشکل وقت میں خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ آخر میں انہوں نے بچوں کو سوالات کرنے اور سیکھنے کے عمل میں بھرپور حصہ لینے کی تلقین۔ قبل ازاں قائدِ ایوان عائشہ فواد نے اپنےخطاب میں کہا کہ ہنگامی صورتحال سے مراد ایسی غیر متوقع اور خطرناک حالت ہے جس میں فوری طبی، حفاظتی یا امدادی کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات سے نمٹنا وفاقی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کی مشترکہ ذمہ داری ہے، تاہم مقامی انتظامیہ، ریسکیو سروسز اور عام شہریوں کا تیار رہنا بھی بے حد ضروری ہے۔ ان کے مطابق ہنگامی حالات میں ٹریفک حادثات، آتشزدگی کے واقعات اور قدرتی آفات شامل ہیں۔

عائشہ فواد نے بتایا کہ پاکستان ٹریفک حادثات کے حوالے سے ایشیا میں پہلے جبکہ دنیا میں 48ویں نمبر پر ہے، اور ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق 2018 سے اب تک اوسطاً 21 افراد روزانہ ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ٹریفک حادثات کی روک تھام کے ذمہ دار ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر حادثات انسانی غلطیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، جن میں قوانین کی خلاف ورزی، کم عمری میں ڈرائیونگ، دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال اور تیز رفتاری شامل ہیں۔ آخر میں انہوں نے زور دیا کہ بحیثیت قوم ہمیں ٹریفک قوانین کے شعور کی کمی کا سامنا ہے، اس لیے عوامی تربیت کے ساتھ ساتھ نصابِ تعلیم میں ٹریفک قوانین کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قائم مقام قائد حزبِ اختلاف جائشہ احمر نے کہا کہ حادثات ایک لمحے میں خوشیوں کو ماتم میں بدل دیتے ہیں۔ ٹریفک حادثات، آتشزدگی یا عمارتوں کے گرنے جیسے واقعات ناقابلِ تلافی جانی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ غفلت کس کی تھی اور ذمہ دار کون ہے۔ آگ پر قابو پانے میں تاخیر اور وسائل کی کمی نے نقصان کو بڑھا دیا۔ آخر میں انہوں نے زور دیا کہ ایسے سانحات سے سبق سیکھ کر مستقبل میں بہتر منصوبہ بندی اور ذمہ داری کو یقینی بنایا جائے تاکہ قیمتی جانیں محفوظ رہ سکیں۔

تقریب میں نونہال مقررین سیدہ مریم فاطمہ، حماد محمود اور دیگر طلبہ کے علاوہ کو فاؤنڈر ریسکیو 1122 سندھ کے دیگر لوگوں نے بھی خطاب کیا . اجلاس کا آغاز محمد اسحاق ملک کی تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا جبکہ طیبہ اصغر نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ  پیش کی۔ اختتام پر طلبہ نے ٹیبلوز، خاکے، ملی نغمے پیش کیے اور ہمدرد پبلک اسکول کے طلبہ نے دعائے سعید پیش کی۔تقریب میں طلبہ، اساتذہ، والدین اور معزز مہمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں