گل پلازہ زمین و تعمیرات کا معاملہ: عبدالستار افغانی، فاروق ستار اور نعمت اللہ خان کے ادوار سے جڑے اہم انکشافات

گل پلازہ زمین و تعمیرات کا معاملہ: عبدالستار افغانی، فاروق ستار اور نعمت اللہ خان کے ادوار سے جڑے اہم انکشافات

جل کر زمین بوس ہونے والے گل پلازہ سے متعلق حکام نے تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی ہے۔

کراچی میں سانحہ گل پلازہ سے متعلق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، جس میں زمین کی الاٹمنٹ، لیز اور تعمیرات سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کی زمین بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کی ملکیت تھی، جسے 1883 میں ٹرام سروس کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دیا گیا تھا۔ یہ لیز 1983 میں ختم ہو گئی تھی۔

تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 1979 سے جینیکا نامی گروپ نے اس زمین میں دلچسپی لینا شروع کی اور لیز ختم ہونے سے محض ایک ماہ قبل یہ زمین خرید لی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے میئر عبدالستار افغانی کے دور میں زمین کا تبادلہ ہوا، جبکہ وہ 1979 سے 1987 تک میئر رہے۔ لیز ختم ہونے کے باوجود گل پلازہ کی عمارت کی تعمیر شروع کر دی گئی، اور بغیر قانونی لیز کے تعمیرات کا عمل تقریباً سات سال تک جاری رہا۔

رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے میئر فاروق ستار کے دور میں 3 نومبر 1991 کو کے ایم سی کی زمین باقاعدہ طور پر گل پلازہ کے لیے لیز پر دی گئی، جس پر سابق میئر فاروق ستار کے دستخط موجود ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ زمین صرف تین روپے فی مربع گز کے حساب سے لیز کی گئی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ 2003 میں گل پلازہ کے اضافی فلورز کو ریگولرائز کیا گیا، جس کی منظوری جماعت اسلامی کے میئر نعمت اللہ خان کے دور میں دی گئی۔حقائق کی روشنی میں مزید قانونی اور انتظامی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں