سندھ بھر میں فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کے لیے 35 عمارتوں کے معائنے، فائر سیفٹی نوٹس جاری

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا صوبہ بھر میں فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کے لیے 35 عمارتوں کے معائنے، فائر سیفٹی نوٹس جاری

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے صوبہ سندھ بھر میں فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے جامع انفورسمنٹ ڈرائیو کا آغاز کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی ہدایت پر صوبے کے تمام ریجنز میں فائر سیفٹی نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جس سے واضح کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی صرف کراچی تک محدود نہیں۔ ایس بی سی اے کے علاقائی دفاتر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ رہائشی اور کمرشل عمارتوں کا معائنہ کر کے غیر مطابقت کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو نے بتایا کہ فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کے لیے خصوصی تکنیکی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو عمارتوں میں فائر فائٹنگ آلات کی موجودگی اور فعالیت، ایمرجنسی ایگزٹس کی دستیابی اور فائر الارم سسٹمز کی درست حالت کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد فائر سیفٹی معائنوں کے عمل کو مزید تیز کر دیا گیا ہے، جس نے رہائشی اور کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات کی سنگین خامیوں کو اجاگر کیا ڈائریکٹر جنرل کے مطابق ابتدائی مرحلے میں کراچی کے مختلف علاقوں میں 35 رہائشی اور کمرشل عمارتوں کا معائنہ مکمل کیا جا چکا ہے۔ معائنہ ٹیمیں فائر فائٹنگ سسٹمز، ایمرجنسی راستوں، فائر الارم سسٹمز اور مجموعی ایمرجنسی تیاری کا جائزہ متعلقہ بلڈنگ قوانین اور قواعد و ضوابط کے مطابق لے رہی ہیں۔

مزمل حسین ہالیپوٹو نے مزید بتایا کہ جہاں فائر سیفٹی کے انتظامات ناکارہ یا غیر فعال پائے گئے ہیں وہاں بلڈنگ اونرز، بلڈرز اور مینجمنٹ کو اصلاحی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مقررہ مدت میں فائر فائٹنگ آلات کی تنصیب اور حفاظتی اقدامات مکمل نہ کرنے کی صورت میں عمارتوں کو سیل کرنے سمیت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ فائر سیفٹی کو یقینی بنانا بلڈرز، بلڈنگ اونرز اور یونینز کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہو نے مزید کہا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سروے میں شامل 266 عمارتوں سمیت شہر کی دیگر اہم رہائشی و کمرشل عمارتوں کو بھی فائر سیفٹی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جنوری 2024 میں بھی کے ایم سی کی جانب سے بلڈرز، بلڈنگ اونرز اور یونینز کو فائر سیفٹی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، تاہم ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

مزمل حسین ہالیپوٹو نے کہا کہ گل پلازہ کے واقعے کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے رہائشی اور کمرشل عمارتوں کو فائر فائٹنگ آلات کی تنصیب اور ان کی باقاعدہ دیکھ بھال یقینی بنانے کے لیے باضابطہ نوٹس جاری کیے ہیں۔ آخر میں ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بطور ریگولیٹری ادارہ کے ایم سی اور سول ڈیفنس کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے صوبہ بھر میں فائر سیفٹی نظام کو مزید مضبوط بنا رہی ہے، جبکہ فائر سیفٹی اور ایمرجنسی تیاری کے حوالے سے معائنوں اور قانونی کارروائی کا عمل آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ مستقبل میں کسی بھی سانحے سے بچا جا سکے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں