پرائیویٹ سیکٹر کے ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں دو ہزار کااضافہ ناکافی ہے، لیاقت ساہی

کراچی: سیاسی و سماجی رہنما لیاقت علی ساہی سیکریٹری جنرل ڈیمو کریٹک ورکرز فیڈریشن اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وفاقی حکومت کی طرف سے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کئے گئے اضافے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے مثبت اقدام ہے لیکن اس سلسلے میں حقائق کا جائزہ لینے کی ضروری ہے چونکہ مہنگائی کی شرح اس سال تیس فیصد کے قریب ہے جبکہ ملک کی کرنسی بھی اس سال پچاس فیصد کے قریب ڈی ویلیو ہوئی اس تناظرکم سے کم 80 فیصد تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہیے تھا جس کی تنخواہ بیس ہزار تھی وہ کم ہو کر دس ہزار ہوگئی تھی، ایسی صورتحال میں ٹریڈ یونین کی تنظیموں نے بھی گزشتہ سال پانچ افرادکے کنبے کی Assessmentکرائی تھی اس کے مطابق کم سے کم تنخواہ کسی بھی مزدور کی 67 ہزار قرار دی گئی تھی اس کی روشنی میں کیسے ممکن ہے کہ 32 ہزار میں پانچ افراد کی فیملی اپنا گزر بسر سکے گی المیہ یہ کہ بہت سے اداروں میں پندرہ ہزار روپے بھی ماہانہ تنخواہ مزدور کا ادا نہیں کی جارہی ۔

انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں مزدوروں کوکنٹریکٹ اور تھرڈپارٹی کنٹریکٹ پر ملازمتوں پر رکھا جاتا ہے جن کی سوشل سیکورٹی میں رجسٹریشن تک صوبوں میں نہیں کی جاتی لیبر ڈیپارٹمنٹ کے افسران اور سرمایہ داروں کی ملی بھگت سے لاکھوں مزدوروں کا بد ترین استحصال کیا جارہا ہے اس پر سیاسی پارٹیاں اپنا کردار ادا کرنے میں پارلیمنٹ کی سطح پر بُرے طریقے سے ناکام ہو چکی ہیں اور ہنر مند ورکرز کی تنخواہوں میں اضافہ سرے سے کیا ہی نہیں کیاجاتا جس کی وجہ سے ہنر مند ورکرز کو بھی ٹھیکیداری نظام کے تحت غیر ہنر مند ورکرزکی تنخواہ یعنی کہ کم سے کم ویجز کیٹگری میں رکھا جاتا ہے جو کہ صریحاًقانون کی خلاف ورزی ہے اس پر محنت کش تنظیمیں تشویش کا اظہار مختلف فورم پر کرتی رہتی ہیں۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کم سے کم تنخواہ غیر ہند مند ورکرز کی 50 ہزار روپے ماہانہ کی جائے ، ہنر مند ورکرز کی تنخواہوں میں بھی کم سے کم 30 فیصد سرکاری ملازمین کی طرز پر اضافہ کیا جائے

لیاقت علی ساہی نے کہا کہ ای او بھی کی پینشن کم سے کم 25 ہزار کی جائے اس کے ساتھ ساتھ کم سے کم ویجز کی ادائیگی کو ممکن بنانے کے ساتھ اداروں میں کلریکل اور نان کلریکل کیڈرز میں کنٹریکٹ ، ڈیلی ویجز اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ پر غیر قانونی بھرتیوں کے بجائے مستقل بھرتیاں کی جائیں تاکہ محنت کش اداروں میں ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں لیبر لاء کے تحت اپنا کردار ادا کرکے اپنی مراعات کا تحفظ کرسکیں جسے ہم حقیقی معنوں میں آئین کی بالادستی قرار دے سکتے ہیں اگر ایسا ممکن نہ ہو اتو محنت کشوں کا ماضی کی طرح اعلانات کی حد تک اضافے کو قرار دیا جائے گا اور ان کا استحصال جاری رہے گا جو کہ جمہوری حکومتوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے جس پر محنت کشوں کو بھی سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں