گلستان سرمست ھاؤسنگ اسکیم میں اربوں روہے کی مبینہ بے ضابطگیوں پر تحقیقات کا حکم
کراچی: پی اے سی نے حیدرآباد ڈولپمنٹ اتھارٹی کیجانب سے 2009ع میں شروع کی گئی 2 ہزار ایکڑز پر مشتمل گلستان سرمست ھاؤسنگ اسکیم کے 32 ہزار سے زائد الاٹیز سے پلاٹ، اور ڈلپمنٹ چارجز کی مد میں ساڑھے 8 ارب روہے وصول کرنے کے باوجود 16 سالوں سے کسی بھی الاٹی کو فزیکل پزیشن نہ دینے ، بجلی، گئس، پانی اور انفراسٹکچر کی سھولیات فراہم نہ کرنے سمیت اربوں روہے کی مبینہ بے ضابطگیوں پر تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے اسکیم کے متعلق تحقیات کے لئے محکمہ بلدیات کی ایڈیشنل سیکریٹری مس افشاں کو تحقیقاتی افسر مقرر کرکے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔
پی اے سی میں حیدرآباد ڈولمپنٹ اتھارٹی نے اسکیم کے 5 سیکٹرز مکمل ہونے اور ترقیاتی کاموں پر ساڑھے 8 ارب روپے میں سے 4 ارپ روپے روپے خرچ کرنے کی دعوی کردی جس پر پی اے سی نے گلستان سرمست ھاؤسنگ اسکیم پر کئے گئے خرچوں، بئنک اسٹیٹمینٹس، ترقیاتی کاموں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
بدھ کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا۔ اجلاس میں حیدرآباد ڈولپمنٹ اتھارٹی کی آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی کے رکن قاسم سراج سومرو، محکمہ بلدیات کی ایڈیشنل سیکریٹری مس افشاں، حیدرآباد ڈولپمنٹ اتھارٹی کے ایڈیشنل سیکریٹری ندیم خان سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے حیدراباد میں ایچ ڈی اے کی گلستان سرمست ھاؤسنگ اسکیم پر 2021ع سے کام بند ہونے اور الاٹیز کو 16 سالوں سے قبضہ فراہم نہ کرنے پر برھمی کا اظھار کرتے ہوئے حیدرآباد ڈولپمنٹ اتھارٹی کے حکام سے استفسار کیا کے گلستان سرمست ھاؤسنگ اسکیم کب شروع ہوئی اور اسکیم پر کام کیوں بند ہے، ابھی تک کتنے الاٹیز سے کتنی رقم وصول کی گئی ہے اور تاحال قبضہ کیوں نہیں فراہم کیا جا رہا ہے۔؟ ایچ ڈی اے حکام نے پی اے سی کو بتایا کے گلستان سرمست ھاؤسنگ اسکیم 2 ہزار ایکڑ ایراضی پر 24 سیکٹرز پر مشتمل ہے اور یہ اسکیم 2009ع سے شروع کی گئی جو کے 4 سالوں میں 2013 ع تک مکمل ہونی تھی۔ ایچ ڈی اے حکام نے مزید بتایا کے گلستان سرمست اسکیم 32 ہزار سے زائد لوگوں کو پلاٹ الاٹ ہوچکے ہیں جن سے 2002ع سے تاحال پلاٹ اور ڈولپمنٹ چارجز کی مد میں ساڑھے 8 ارب روپے وصول کئے گئے ہیں اور اسکیم کے 24 سیکٹرز میں سے 5 سیکٹرز میں ترقیاتی کاموں کو مکمل کرکے الاٹیز کو قبضہ دینے کے لئے تیار کئے گئے ہیں اور قبضہ دینے کے لئے اشتھار جاری کیا گیا اور تاحال 2 سو لوگوں نے قبضے کے لئے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔
پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے استفسار کیا کے اسکیم کے الاٹیز سے جب ساڑھے 8 ارب روپے وصول کئے گئے ہیں تو وہ رقم کہاں گئی؟ اسکیم پر کام کیوں بند ہیں اور اسکیم میں بجلی، گئس،پانی اور روڈ نیٹ ورک کیوں نہیں بنایا گیا؟ ایچ ڈی اے حکام نے پی اے سی کو بتایا کے ساڑھے 8 ارب روہے میں سے 4 ارب روپے اسکیم کی ڈولپمنٹ پر خرچ کئے گئے ہیں اور گرڈ اسٹیشن کے لئے 14 کروار جمع کرائے گئے تاہم واپڈا نے ڈمانڈ نوٹس میں رقم بڑھادی ہے اور اسکیم کا ہر ایک سیکٹر 80 ایکڑ پر مشتمل ہے اور سیکٹر ایک سے لے کر سیکٹر 5 تک پانچوں سیکٹرز میں 80 فیصد ترقیاتی کام مکمل ہوچکا ہے۔
ایچ ڈی اے حکام نے اجلاس کو بتایا کے 2014ع میں کنسلٹنٹ رٹایر ہوگیا جس کے بعد ایچ ڈی اے نے ٹینڈر کے ذریعے کام کرائے ہیں تاہم اب ایچ ڈی اے کا ڈی جی نہیں ہے۔ پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے پوچھا کے ساڑھے 8 ارب روہے میں سے اگر 4 ارب ترقیاتی کاموں پر خرچ کئے گئے ہیں تو بقیہ ساڑھے 4 ارب کہاں گئے؟ جس پر ایچ ڈی اے حکام بقیہ ساڑھے ارب کے متعلق پی اے سی کو کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دے سکے۔
ایچ ڈی اے حکام نے اجلاس کو بتایا کے ایچ ڈی اے نے اسکیم کے فیز ون ،ٹو اور تھری میں 2019ع میں 50 فیصد لوگوں کی الاٹمنٹ کینسل کرکے ان دو ہزار پلاٹوں پر مشتمل فیز فور اعلان کیا ہے مگر 8 سالوں سے تاحال فیز فور کی قرعہ اندازی نہیں ہورہی ہے۔
کمیٹی رکن قاسم سومرو نے کہا کے اگر ایچ ڈی اے اسکیم پر کام نہیں کرسکتا تو اسکیم کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلایا جائے۔
پی اے سی نے حیدرآباد ڈولپمنٹ اتھارٹی کیجانب سے گلستان سرمست ھاؤسنگ اسکیم کے 32 ہزار سے زائد الاٹیز سے پلاٹ، اور ڈلپمنٹ چارجز کی مد میں ساڑھے 8 ارب روہے وصول کرنے کے باوجود 16 سالوں سے کسی بھی الاٹی کو فزیکل پزیشن نہ دینے ، بجلی، گئس، پانی اور انفراسٹکچر کی سھولیات فراہم نہ کرنے سمیت اربوں روہے کی مبینہ بے ضابطگیوں پر تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے محکمہ بلدیات کی ایڈیشنل سیکریٹری کو تحقیقاتی افسر مقرر کرکے اسکیم پر کئے گئے خرچوں، بئنک اسٹیٹمینٹس اور ترقیاتی کاموں کی تفصیلات دو ہفتوں میں طلب کرلی۔ چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے تحقیقات کی روشنی مین اسکیم میں بے ضابطگیاں ثابت ہوئی تو پی اے سی ایکشن لے گی۔
