عمران خان نے تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنان کا آرمی ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل کا اقدام چیلنج کردیا

اسلام آباد: عمران خان نے ایڈووکیٹ حامد خان کی وساطت سے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کرتے ہوئے وفاقی حکومت، نوازشریف، شہبازشریف، مریم نواز، آصف زرداری، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان، نگراں وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی، اعظم خان سمیت دیگر کو فریق بنایا.

عمران خان نے مؤقف اختیار کیا کہ نواز شریف اور مریم نواز نے پروپیگنڈہ کیا کہ عمران خان اپنا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں، حالانکہ میں نے ہمیشہ اداروں کا احترام کیا اور ساتھ کھڑا رہا.

عمران خان نے نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 245 کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دے، تحریک انصاف کے کارکنان کو فوری رہا کرنے کا حکم دے، آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سویلینز کا کورٹ مارشل غیر آئینی ، 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کیلیے جوڈیشل کمیشن تشکیل اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جبری علیحدگیوں کو غیر آئینی قرار دے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں