کراچی: کے ایم سی اور ٹی ایم سیز کے رٹایرڈ ملازمین کے پینشن کی مد میں کے ایم سی پر واجبات 714 ملین سے بڑھ کر 13 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں اس ضمن میں کے ایم سی کا ادارہ رٹایرڈ ملازمین کو 13 ارب روپے کے پینشن واجبات ادا کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے جبکے کے ایم سی نے 2.76 ارب روپے سے قائم پینشن فنڈ کے 57 کروڑ روپے کے منافعے سے رٹایرڈ ملازمین کو پینشن واجبات کی ادائیگیاں جاری رکھنے کے متعلق پی اے سی کو آگاہی دے دی ہے۔کے ایم سی کیجانب سے رٹایرڈ ملازمین کے پینشن واجبات 2027ع تک 20 ارب تک پہنچ جانے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
روز پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا۔ اجلاس میں کے ایم سی کے متعلق سال 2018 سے 2020ع تک آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کراچی میٹروپولیٹن کمشنر سید افضال زیدی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں ڈی جی آڈٹ نے اعتراض اٹھایا کے کے ایم سی کا ادارہ رٹایرڈ ملازمین کو پینشن واجبات ادا کرنے میں ناکام ہوا ہے جس پر کراچی میٹروپولیٹن کمشنر سید افضال زیدی نے پی اے سی کو بتایا کے کے ایم سی کے ساتھ ساتھ ٹی ایم سیز کے رٹایرڈ ملازمین کو بھی پینشن ادا کرنے کی ذمیداری کے ایم سی پر ڈال دی گئی ہے اور ملازمین کی بڑی تعداد رٹایرڈ ہونے کی وجہ سے کے ایم سی پر رٹایرڈ ملازمین کے پینشن واجبات 714ملین روہے سے بڑھ کر 13 ارب ہوگئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کے جتنے ملازمین رٹایرڈ ہو رہے ہیں اتنا کے ایم سی کو صوبائی محکمہ خزانہ سے فنڈ نہیں مل رہا جس وجہ سے رٹایرڈ ملازمین کے واجبات بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے پی اے سی بتایا کے کے ایم سی نے تین سالوں سے 2.76 ارب روپے کا پینشن فنڈ قائم کیا ہے جس پینشن فنڈ کے تحت بئنک سے 57 کروڑ روپے کا منافعہ کے ایم سی کو مل رہا ہے جس منافعے سے رٹایرڈ ملازمین کو پینشن واجبات کی ادائگیاں کی جا رہی ہیں۔
کے ایم سی کمشنر نے خدشے کا اظھار کرتے ہوئے پی اے سی کو بتایا کے 2026ع اور 2027ع میں کے ایم سی اور ٹی ایم سیز کے رٹایرڈ ملازمین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا جس وجہ سے کے ایم سی پر پینشن واجبات 20 ارب روپے تک پہنچ جائینگے۔
اجلاس میں پی اے سی نے ڈاریکٹر لینڈ مینیجمنٹ کیجانب سے کے ایم سی کے پلاٹوں کے آکشن کی مد میں 117 ملین روپے وصول نہ کرنے کے معاملے کی تحقیقات اینٹی کرپشن کے حوالے کردی۔ پی اے سی نے کے ایم سی کی ملکیت پر قائم پیٹرول پمپ مالکان کیجانب سے کے ایم سی کو سالانہ 96 لاکھ روپے رینٹ ادا کرنے کے بجائے عدالت سے اسٹے آرڈر لینے کے معاملے پر کے ایم سی کو رجسسٹرار سندھ ھائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی تاکے عدالت کیجانب سے رینٹ وصولی کے متعلق کوئی حتمی فیصلہ آسکے۔
