صوبائی محتسب سندھ کے زیر صدارت ماحولیات سے متعلق شکایت کی سماعت

کراچی: صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت کے زیر صدارت گاؤں گاہی خان چاکرانی خیرپور میں ماحولیات سے متعلق شکایت کی سماعت صوبائی محتسب سندھ مرکزی دفتر میں منعقد ہوئی۔

سماعت میں سیکریٹری ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی سندھ آغا شاہنواز، ڈائریکٹر جنرل سندھ انوائرنمنٹ پروٹیکشن اتھارٹی (سیپا) وقار پھلپوٹو پیش ہوئے۔ صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت نے گاؤں گاہی خان چاکرانی میں اینٹوں کے بھٹوں سے مضرصحت دھوئیں کے اخراج پر جواب طلب کیا۔

صوبائی محتسب سندھ نے علاقہ مکینوں کی شکایت پر اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف کیا قانونی کاروائی، سندھ بھر میں بھٹوں کی تعداد اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر محکمہ ماحولیات اور سیپا کی پالیسی سے متعلق سوال کیا۔

جواب میں سیکریٹری ماحولیات سندھ آغا شاہنواز نے صوبائی محتسب سندھ کو بریف کیا کہ اینٹوں کے بھٹوں اور دیگر چمنیوں کے ڈیزائنز پر تحقیقی کام جاری ہے جبکہ سندھ بھر میں رجسٹرڈ چمنیوں کی تعداد 450 جن میں سب سے زیادہ حیدرآباد میں موجود ہیں اور غیر رجسٹرڈ عارضی بھٹے لاتعداد ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ عارضی بھٹے چمنی کے بغیر زیر زمین مقررہ مدت کے لیے قائم کیے جاتے ہیں جو کام مکمل ہونے پر بند کردیے جاتے ہیں، یہ عارضی زیر زمین بھٹے دادو، ٹھٹھہ، کشمور اور ملحقہ اضلاع میں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔

ڈی جی سیپا وقار پھلپوٹو نے بتایا کہ گاؤں گاہی خان چاکرانی خیرپور میں قائم شیرگل بھٹہ بند کردیا گیا ہے جبکہ دولت خان بھٹہ ایک ہفتے میں بند کردیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اینٹوں کے بھٹوں اور دیگر چمنیوں کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے سروے زیر غور ہے جبکہ مزید اقدامات کے لیے سندھ حکومت کو مختلف پروپوزل دیے جائیں گے۔

صوبائی محتسب سندھ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے ایسے میں ماحول دشمن چیزوں کے خلاف اقدامات ناگزیر ہیں لہذا محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی سندھ اور سیپا ماحولیات سے متعلق جامع اور مربوط پالیسی اپنائیں۔

محمد سہیل راجپوت نے دونوں اداروں کو ماحول دوست اقدامات سے متعلق تفصیلی رپورٹ آئندہ چھ ہفتے میں پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں