سندھ کے مختلف اضلاع میں وومین ہاسٹلز پر سرکاری افسران کا قبضہ، خالی کرانے کا حکم

کراچی:محکمہ وومین ڈولپمنٹ کی سندھ کے مختلف اضلاع میں ورکنگ وومین کی رہائش کے لئے قائم 11 وومین ہاسٹلز پر ڈی آئی،ڈپٹی کمشنر، تعلیم کے افسران سمیت دیگر سرکاری افسران کا قبضہ ہے اور وومین ةاسٹلز میں افسران نے اپنے دفاتر قائم کرلئے ہیں۔جس معاملے پر برہمی کا اظھار کرتے ہوئے پی اے سی چیئرمین نے سندھ میں موجود 11 وومین ہاسٹلز میں قائم ڈی آئی جی ،ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر افسران کے دفاتر اور افسران کے قبضے کو فوری خالی کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

بدھ کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے رکن قاسم سراج سومرو سمیت محکمہ وومین ڈولپمنٹ کے سیکریٹری عبدالرشید زرداری اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں محکمہ وومین ڈولپمنٹ کی سال 2019 اور 2020ع کی آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں شھید بینظیر آباد میں ورکنگ وومین ہاسٹل، سکھر میں وومین ڈولپمنٹ کامپلیکس اور  ایڈووکیسی فار وومین ڈولپمنٹ کے منصوبوں پر 273 ملین روپے خرچ ہونے پر آڈٹ  اعتراض سامنے آیا۔

پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے محکمے سے استفسار کیا کے سندھ میں کتنی وومین ہاسٹلز ہیں اور ہاسٹلز میں کتنی ورکنگ خواتین کو رہائش دی گئی ہے۔

محکمہ وومین ڈولپمنٹ کے سیکریٹری نے پی اے سی کو بتایا کے محکمہ وومین ڈولپمنٹ کی سندھ کے مختلف اضلاع میں 11 ہاسٹلز ہیں جن ہاسٹلز میں ایک پر ڈی آئی جی ایک پر ڈپٹی کمشنر اور محکمہ تعلیم سمیت دیگر افسران نے اپنے دفاتر قائم کئے ہیں جس وجہ سے وہ ہاسٹلز محکمے کے پاس نہیں ہیں۔

پی اے سی کو آگاہی دی گئی کے سکھر کی وومین ڈلپمنٹ کامپلیکس میں ڈپٹی کمشنر سکھر اور نوابشاہ کی وومین ہاسٹل میں ایک ڈی آئی  نے اپنا دفتر قائم کرلیا ہے۔اسی طرح دیگر اضلاع میں بھی دیگر آفسران نے  اپنے دفاتر قائم کئے ہیں۔

پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے ورکنگ وومین کی ہاسٹلز پر ڈی آئی جی، ڈی سی اور دیگر افسران کے قبضے  اور دفاتر قائم ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ میں موجود تمام 11 وومین ہاسٹلز میں قائم ڈی آئی جی،ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر افسران کے دفاتر اور ان کے قبضے کو فوری خالی کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

اجلاس میں  پی اے سی نے وومین کمپلیکس سکھر کے لئے سرکاری زمین حاصل کرنے کے بجائے نجی لوگوں سے زمین حاصل کرنے اور کمپلیکس کی تعیر پر 210 ملین روپے خرچ کے معاملے کی اینٹی کرپشن کو تحقیات کا حکم دے دیا۔

اجلاس میں اس بات کا انکشاف سامنے آیا ہے کے محکمہ وومین ڈولپمنٹ نے سال 2018_2019  میں جینڈر ریفارم ایکشن پلان کے لئے 542 ملین کی اسکیم میں سے 83 ملین روپے صرف سیشن کے انعقاد اور گاڑیوں کی خریداری پر خرچ کرنے کے بعد جینڈر ریفارم ایکشن پلان کو ہی بند کردیا گیا۔پی اے سی نے خواتین میں صرف آگاہی مھم کے سیشن کے انعقاد پر 83 ملین  روپے خرچ کرنے اور جینڈر ریفارم ایکشن پلان کا پروگرام بند کرنے والے معاملے کی سیکریٹری وومین ڈولپمنٹ کو تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

اجلاس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کے سندھ کمیشن آن اسٹیٹس آف وومین کی چیئرپرسن کی تقرری کے لئے کسی نام پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔

سیکریٹری محکمہ وومین ڈولپمنٹ نے پی اے سی کو بتایا کے سندھ کمیشن آن اسٹیٹس آف وومین کی چیئرپرسن کی تقرری کے لئے اشتھار جاری کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 5 خواتین کے ناموں کو سلیکٹ کرکے کسی ایک نام کی حتمی منظوری کے لئے ایک سمری  وزیراعلی کو بھیجی گئی ہے مگر چیف سیکریٹری نے ان ناموں میں سے دو ناموں پر 60 سے 65 سال کی عمر پر اعتراض لگایا ہے ، اور وزیراعلی سندھ اپوزیشن لیڈر کی مشاورت کے بعد حتمی نام کو پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا اور کسی ایک نام پر اتفاق اور منظوری ہونے کے بعد سندھ کمیشن آن اسٹیٹس آف وومین کی نئی چیئرپرسن کی تقرری کا نوٹیفیکشن جاری کردیا جائے گا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں