پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں شعبہ زراعت پر اجلاس ہوا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ، ایم این اے خورشید شاہ، سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار، ایم پی اے جمیل سومرو، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف ، سیکریٹری زراعت سہیل قریشی شریک ہوئے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بریفنگ میں بتایا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے سندھ حکومت اقدامات کررہی ہے۔محکمہ زراعت ریسرچ پر بھی کام کررہی ہے۔کچھ نئی اقسام متعارف کروائی گئی ہیں۔
وزیر زراعت محمد بخش مہر کی چیئرمین کو بریفنگ
محمد بخش مہر نے اجلاس کو بتایا کہ سندھ میں 487 ملین ایکٹر پر زراعت ہوتی ہے۔جس پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہاری پانی کی قلت، کھاد اور بیج مانگنے کی باتیں کر رہے ہیں۔سندھ حکومت زراعت کی ترقی کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موسمی تبدیلی کے باعث زرعی شعبہ متاثر ہوا ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو نے ڈوکری رائس ریسرچ سینٹر کو ضروری سہولت دے کر بہتر کرنے اور پانی کی گزرگاہوں کو پکا کرنے کے لیے چیئرمین کی ہدایت کی۔
چیئرمین نے خواتین کے لیے زرعی پیکجز لانے کی ہدایت دی
وزیر زراعت محمد بخش مہر نے کہا کہ زمین کی لیولنگ کے لیے 132 بلڈوزر دیئے گئے۔23974 چھوٹے بڑے ٹریکٹرز ہاریوں کو لینڈ پر کام کے لیے دیئے
بلاول بھٹو نے کہا کہ محکمہ زراعت واٹر کورسز کی لائننگ، لیزر لینڈ لیولنگ ، کچن گارڈن، سولر ٹیوب ویلز،ٹننل فارمنگ پر مزید کام کیا جائے۔
چیئرمین کی ہاری کارڈ کے ذریعے ہاریوں کو ریلیف دینے کی ہدایت
محمد بخش مہر نے کہا کہ ہاری کارڈ کے لیے ہاریوں کی رجسٹریشن کا کام جاری ہے
چیئرمین نے زراعت کی ترقی کے لیے نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی ہدایت دے دی؛
ہمیں ایسی فصلیں لانی ہیں جو کم پانی لیں اور پیداوار زیادہ دیں؛ چیئرمین بلاول بھٹو
چیئرمین کی سندھ حکومت کو موسمی تبدیلی کے حوالے سے حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت۔موسمی تبدیلی کے تحت تمام شعبوں کو ایڈریس کریں۔
