کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ انتہاپسندی سے پاک صوبہ ہے اور جو بھی واقعات ہوئے ہیں ان میں اندرونی نہیں بلکہ بیرونی عناصر ملوث ہیں۔ ہمیں ایک ایسا صوبہ ہونے پر فخر ہے جو انتہا پسندی سے پاک ہے۔یہ بات انہوں نے نئے تعینات ہونے والے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر مسٹر لانس ڈوم سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جنہوں نے بدھ کو یہاں وزیراعلیٰ ہاؤس میں ان سے ملاقات کی۔
سندھ کے ترقی پسند اور مستحکم معاشرے پر گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سندھ میں نہیں بلکہ بیرونی طاقتوں سے ملک میں آئی ہے۔سندھ ایک مستحکم معاشرہ ہے اور یہاں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ اور پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سفارت کار نے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات، سیلاب کے بعد کی بحالی اور صوبے کو درپیش مختلف سماجی و اقتصادی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے نئے ڈپٹی ہائی کمشنر کا خیرمقدم کیا اور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ اور مضبوط تعلقات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے دورے پر آئے ہوئے سفارت کار کو باہمی تعاون کو فروغ دینے میں اپنی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
جواب میں مسٹر ڈوم نے سندھ حکومت کی جانب سے پرتپاک استقبال اور تعاون کے لیے شکریہ ادا کیا۔
ملاقات کے دوران 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد بحالی کی کوششوں پر بات چیت ہوئی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ بنیادی چیلنج زرعی شعبے کی بحالی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے زرعی شعبہ کو بیج اور کھاد فراہم کرکے بحال کیا ہے جس کے نتیجے میں گندم کی بہت زیادہ فصل ہوئی۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ عالمی برادری اور عالمی بینک کی مدد سے سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ واسی موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے زرعی شعبے میں درپیش معاشی چیلنجز کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے زرعی ٹیکس کو 35 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد کر دیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پانی کی قلت، کھاد کی لاگت اور ان پٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے کاشتکاری اب زیادہ منافع بخش پیشہ نہیں رہا۔ ملاقات نے برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے، موسمیاتی چیلنجوں سے نمٹنے اور سیلاب کی بحالی اور سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے مسلسل کوششوں کو یقینی بنانے کے لیے سندھ کے عزم کو تقویت دی۔
2لاکھ گھروں کو سستے سولر فراہم کر رہے ہیں:وزیراعلیٰ سندھ
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے سولر منصوبہ شروع کیا تو پابندی لگائی گئی۔سولر سسٹمز کے رینیوبلز ونڈ اور سولر پہ پابندی ڈالی گئی۔ہم نے فیصلہ کیا سندھ حکومت امپورٹڈ کول کے پلانٹ لگائیں گی،2014 میں نگر پارکر کے 600 سکولز کو سولرائز کیا تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سولر ہوم سسٹمز کی تقسیم کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ2014 میں ہم 25-25 میگاواٹ کی دو اسکیم سکھر بھی شروع کی۔کہتے ہیں ہمارے پاس بجلی کی پروڈکشن بہت ہے اس لیے ہم اپ کو اجازت نہیں دے سکتے۔ان سے پوچھو کہ اس وقت کورنگی میں کتنی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے لیکن کہتے ہیں بجلی بہت ہے،میں یہ کہتا ہوں کہ بجلی بہت نہیں ہے بجلی آپ پروڈیوس نہیں کر سکتے۔اس لئے سندھ حکومت نے ایک رینیوڈ ایفرٹ شروع کیے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ساہیوال میں امپورٹڈ کول کے پاور پلانٹ شروع کئے گئے،کہا کہ جی تھر کا کوئلہ اس قابل نہیں ہے کہ اس سے بجلی پیدا کی جا سکے،2013 یا 2014 کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے منظوری لے کر دی،وفاق کی گارنٹی کے بغیر منصوبہ پر قرضہ لینا مشکل تھا،2016 میں منصوبہ پر دستخط ہوئے لیکن کہا کہ تھر کا کوئلہ قابل نہیں۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صدر زرداری اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو تھر کا دورہ کروایا اور منصوبہ کا افتتاح کروایا،2015 میں تب ہمارے پاس قرضہ کی منظوری نہیں تھی لیکن ہم نے ساری کوششیں کی،انھوں نے ہمیں قرضہ کی منظور شرائط پر دی،کہا کہ اگر اس قرضہ میں ڈیفالٹ ہوا تو ہم سندھ کے این ایف سی ایوارڈ سے کاٹ لیں گے۔انہوں نے قرضہ منظور کیا تھا ہم نے اس کو بھی قبول کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ 2018 کا جب تھر کوئلے کی کھدائی کا کام شروع ہوا تو بلاول بھٹو زرداری خود کان کی کھدائی کی جگہ جاکر دورہ کیا۔تھر کوئلہ کے 230 میگا واٹ کا پہلا افتتاح بھی بلاول بھٹو زرداری نے کیا۔آخری پاور پلانٹ کا افتتاح وزیر داخلہ بلاول بھٹو اور وزیراعظم شہباز شریف نے کیا۔ملک کی سب سے سستی بجلی تھر کے کوئلے سے نکل رہی ہے۔یہ ہماری سندھ حکومت کی کامیابیاں ہیں۔
