
کراچی(رپورٹ: سرور سومرو) عظیم مصور جمیل نقش 16 مئ 2019 کو لندن میں انتقال کر گۓ تھے ان کی چوتھی برسی نہایت عقیدت و احترام سے منائ گئ جمیل نقش کے مداحوں نے انھیں شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوۓ ان کی یاد میں شمعیں روشن کی.
جمیل نقش کا تعلق کیرانہ انڈیا سے تھا وہ 25 دسمبر 1939 کو پیدا ہوۓ اورپاٹیشن کے بعد پاکستان آگۓ آرٹ کی ابتدائی تعلیم منو اسکول آف آرٹ سے استاد شریف سے حاصل کی، جمیل نقش اپنے طرز کےمنفرد مصور تھے، انہوں نے اپنے تخلیقی ذہن اور خداداد صلاحیتوں سے اپنے فن کو عروج پر پہنچایا اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرانے میں اہم کردار ادا کیا
جمیل نقش میں وہ تمام صلاحیتیں موجود تھی جس کی وجہ سے انھیں مقام حاصل ہوا آرٹ کہ ممتاز ناقدین کا ماننا ہے کہ جمیل نقش جیسے جینیئس آرٹس صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، جمیل نقش آرٹ ورلڈ کا صرف ایک فنکار نہیں تھا بلکہ ایک دور تھا، جو ایک آرٹ کی تاریخ میں تبدیل ہوگیا، انہیں ہمیشہ ایک لیجنڈ طور پر یاد رکھا جائے گا، ان کی فنی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے انھیں صدارتی ایوارڈ تمغہ حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا اعتزاز حسن نے 2017 میں جمیل نقش میوزیم کا افتتاح کیا تھا
اس میوزیم میں جمیل نقش کے سات دہاہیوں پر مشتمل کام کو بہت خوبصورتی سےڈسپلے پریزرکیا گیاہے تاکہ آرٹ کے شائقین اور آئندہ آنے والی نسلیں اس عظیم مصور کے فن سے استفادہ حاصل کر سکے
