کراچی: ریل مزدور محاذ پاکستان نے حکومتی پینشن اصلاحات، اسسٹنٹ پیکیج و ان ویلڈ پیکیج کے خاتمہ کے پرزور مذمت کرتے ہوئے عیدالفطر کے بعد احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔
ریلوی مزدور یونین مرکزی صدر محمد نسیم رائو و مرکزی چیئرمین منظور احمد ملاح کے زیرصدارت ہوا جس میں مرکزی چیف آرگنائزر رانا محمد سہیل، مرکزی سرپرست اعلیٰ دلبر خان مگسی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید شاھد اقبال، مرکزی ترجمان عبد المجید زھری، فضل واحد ، و دیگر نسیم گشکوری، افضل بنگلزئی، فرھاد خان، ڈاکٹر بابر قادری ،عمران قدیر، قاضی منور حسین ،سید سلیم چشتی، امیر بخش بلوچ، عبد حمید بلوچ، وحید اسلم، شکیل احمد اعوان، اعجاز علی گوپانگ، سید مظھر علی شاہ، گلزار علی سومرو نے شرکت کی ۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئیں، آخر کب تک آئی ایم ایف کے ایجنڈاز پر عمل پیرا ہونگے، ہم اپنے مکمل ہوش وحواس سے یہ بات کہتے ہیں کہ ادارے اٹھ کر کھڑے ہو کر دوڑ سکتے ہیں، اگر انکو سیاست سے پاک اور انکو اپنی خود مختاری دی جائے تو
ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومتی پینشن اصلاحات، اسسٹنٹ پیکیج و ان ویلڈ پیکیج کے خاتمہ کی زور مذمت کرتے ہیں اور ریلوے کو کارپوریشن کی شکل دینے پر عقل سے پیادل فیصلہ تصور کرتے ہیں۔
ریل مزدور محاذ پاکستان عید الفطر کے بعد اپنے مکمل جوہر کے ساتھ تحریک چلائے گا۔
مرکزی اجلاس میں پرمم کے قائدین نے کہا کہ ریل مزدور محاذ پاکستان کو محنت کشوں کا تحریکی بڑا پلیٹ فارم سمجھتے ہوئے مکمل فعال کیا جائیگا، جبکہ یہ پلیٹ روشن خیال، پروگریسو و کامریڈوں کا پلیٹ فارم ہے
ان کا کہنا تھا کہ ریلوے اس ملک کا اہم ترین ستون ہے جبکہ یہ بات ملک کے تمام مکتب فکر کو بھی سمجھنی ہوگی کہ ریلوے ہمارے ملک کی ریڈ لائن ہے اس ادارے کی ترقی ہر حال میں ضروری ہے، ان رہنماؤں نے کہا کہ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہمارے ملکی اداروں کو ایک منصوبہ بندی/ ایجنڈہ کے تحت تباہ و برباد کیا گیا ہے، جو بات عوام و محنت کش عوام کے سامنے مکمل اعداد وشمار کے رکھی جائے گی۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آج ہماری بات خصوصاً ریلوے حکام سننے کو تیار نہیں ہے اس لیے کے ہم کھری اور سچی باتیں کرتے ہیں، کچھ ڈویژن تو اس کو اپنی پرائیویٹ کمپنی سمجھ کر چلا رہے ہیں، ریلوے حکام و حکومت کی چشم پوشی سمجھ سے بالا تر ہے۔ ایسے عوامل کو بھی عیاں کیا جائیگا۔ ہم کسی کی بلیک میلنگ میں آنے والے نہیں ہیں۔ ملک کے و خصوصاً ریلوے کے محنت کشوں کو عید الفطر کے بعد جدوجھد کے لیے تیار ہونا ہوگا۔
