کراچی:چیئرمین اینٹی کرپشن سندھ گورنمنٹ سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے تمام سرکاری اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن ناگزیر ہے، اینٹی کرپشن ااسٹیبلشمنٹ سندھ کو مکمل طور پر کمپیوٹرائزکیا جائے گا،جھوٹی شکایت کرنے والے کو ایک سال کی سزا تجویز کی ہے،معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ہراسگی کاخاتمہ کریں گے،وائٹ کالر کرائم کی تفتیش کے لیے اینٹی کرپشن کے افسران کی تربیت کی جارہی ہے، آباد ممبر کے خلاف شکایت پر آبادکی مشاورت نوٹس جاری کیا جائے گا، آباد آنے کا مقصد آباد کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا ہے،محکمہ اینٹی کرپشن پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ادارے میں اصلاحات لارہے ہیں۔ یہ بات انھوں نے آباد ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی، سنیئر وائس چیئرمین سید افضل حمید، وائس چیئرمین طارق عزیز، چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی، آباد کے سابق چیئرمین فیاض الیاس، جنید اشرف تالو،ابراہیم حبیب، اینٹی کرپشن کے افسران اور آباد ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی۔
چیئرمین اینٹی کرپشن ذولفقار علی شاہ نے مزید کہا کہ سب سے زیادہ کرپشن زمینوں میں ہوتی ہے، زمینوں پر قبضے کیے جاتے ہیں،کراچی شہر میں اراضی رکھنے والی ایم ڈی اے، کے ڈی اے، ایل ڈی اے سمیت 18 ایجنسیاں ہیں۔ زمینوں کے ٹائٹل محفوظ بنانے کے لیے ان 18 اتھارٹیز کو کمپیوٹرائز کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ کرپشن ایک ناسور ہے اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیے جائیں گے۔چیئرمین ذوالفقار علی شاہ نے بتایا کہ شناخت ظاہر نہ کرنے والوں کی شکایات پر توجہ نہیں دی جائے گی۔ 5 سال کے دوران اینٹی کرپشن سندھ نے 5 ہزار شکایات نمٹائیں جبکہ ہم نے ایک سال میں 7 ہزار شکایات نمٹادی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ نیب کے ساتھ ملکر لائحہ عمل بنایاہے کہ سندھ میں کرپشن کا کیس نیب بھیجنے سے قبل اینٹی کرپشن سندھ سے مشاورت کی جائے۔ نئی ایس او پیز لارہے ہیں جس کے مطابق ایک کیس نمٹ جانے کے بعد اس کی دوبارہ انکوائر ی نہیں ہوگی، اینٹی کرپشن میں سرکل افسر کے عہدے کو ختم کرکے ضلع سطح پر ڈپٹی ڈائریکٹرمقرر کیے جائیں گے۔اینٹی کرپشن کا کوئی بھی افسر ڈی جی کی منظوری کے بغیر کسی کو بھی نوٹس نہیں بھیج سکے گا۔ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ تعمیراتی پروجیکٹ میں کرپشن کیس کا فیصلہ ّنے سے قبل پروجیکٹ کی تکمیل ہونے پر اسے مسمار نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے ریگولرائز کیا جائے گا۔
ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ اینٹی کرپشن کے ڈائریکٹر او رآباد نمائندے پرمشتمل کمیٹی بنائی جائے گی جو آباد کے ممبر بلڈرز اور ڈیولپرز کے تحفظات دور کرے گی۔چیئرمین نے اپنے افسر کی جانب سے آباد کے ممبر کومافیا کہنے پر آباد سے معافی مانگی اور کہاکہ افسران کی ٹریننگ جاری ہے جسکے بعد اس طرح کے واقعات نہیں ہوں گے۔اس موقع پر آباد کے چیئرمین محمدحسن بخشی نے کہا کہ کرپشن ختم ہوگی تو معاشی سرگرمیاں شروع اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے،۔ حسن بخشی نے کہا کہ کرپشن کی تحقیقات کرنے والے اداروں کی جانب سے ہراسگی کے واقعات سے ہمارا تمام سرمایہ دبئی منتقل ہورہے ہیں۔ سرمایہ کار گھبرا جاتے ہیں اور سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں،کرپشن کے خلاف اینٹی کرپشن اور آباد کو بطور ادارہ ملکر کام کرناہوگا،انھوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن اداروں میں ایسی قانون سازی کی جائے کہ جس سے ہراسگی کا خاتمہ ہو۔
انھوں نے کہا کہ آباد کے ممبر کے خلاف انکوائر میں آباد کے نمائندے کو بطور مبصر رکھا جائے جس سے ہراسگی کا خاتمہ ہوگا۔حسن بخشی نے کہا کہ اینٹی کرپشن جب کسی سرکاری افسر کے خلاف تحقیقات کررہا ہوتا ہے تو بلڈر سے بھی تمام دستاویزات طلب کرتا ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ کیوں کہ بلڈر تمام دستاویزات متعلقہ محکموں میں جمع کرائی ہوتی ہیں۔
چیئرمین آباد نے کہا کہ تفتیش کا وقت مقرر ہونا چاہیے،انھوں نے بتایا کہ اگر پروجیکٹ کے خلاف تحقیقات میں 20 سال لگ جاتے ہیں اور اس دوران پروجیکٹ مکمل ہوجاتا ہے تو اسے مسمار کرنا انتہائی ناانصافی ہے،انھوں نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے پروجیکٹ کو مسمار کرنے کے بجائے ریگولرائز کیا جائے۔چیئرمین آباد نے مطالبہ کیا کہ وہ سرکاری محکموں میں بدعنوانیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ تعمیراتی سرگرمیاں بلاتعطل جاری رہ سکیں اور معیشت میں بہتری لائی جا سکے۔ آخر میں سوال وجواب کے سیشن میں بلڈرز نے چیئرمین اینٹی کرپشن کو اپنے تحفظات سے آگا ہ کیا جس پر انھوں نے موقع پر احکام جاری کرکے بیشتر مسائل حل کرادیے۔
