پاکستان ازبکستان کا تجارت دو ارب ڈالر تک لانے کا فیصلہ،معاہدوں پر دستخط

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت اور سائنس سمیت مختلف شعبہ جات کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ازبک صدر شوکت مرزیایوف پاکستان اور ازبکستان کے مابین تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں و معاہدوں پر دستخط کرنے کی تقریب میں پہنچے جہاں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔دونوں ممالک کے درمیان شعبہ سائنس و ٹیکنالوجی، سفارتی پاسپورٹس اورنوجوانوں کے امور سے متعلق مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا۔ تاشقند اور لاہور کے درمیان ایم او یو کا تبادلہ بھی ہوا۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں ازبک صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مفید گفتگو ہوئی جس کے بعد مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے۔ روشن مستقبل کے لیے دونوں ملکوں کی گفتگو اور معاہدے بہت اہم ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 2ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا، درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اور مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔

ازبک صدر شوکت مرزیایوف نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، تاشقند اور لاہور کے درمیان باقاعدہ پروازیں دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں۔پاکستان کی ممتاز کاروباری کمپنیاں دورہ تاشقند پر ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری و تجارت سے متعلق سیر حاصل گفتگو ہو رہی ہے جس سے تزویراتی تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا کہ دورہ ازبکستان پر بہترین میزبانی پر مشکور ہوں، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مضبوط روابط قائم ہیں جبکہ تعلقات کی طویل تاریخ بھی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ سرمایہ کاری اور تجارت میں اضافہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، ازبکستان پاکستان کا قابل اعتماد شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک کی خوشحالی اور ترقی ہمارا مشترکہ عزم ہے۔ازبک صدر عملی اقدام پر یقین رکھتے ہیں اور انہوں نے ازبکستان کو ترقی کی نئی بلندیوں پر پہنچایا ہے

شہباز شریف نے کہا کہ  ازبکستان کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کے دورے کی دعوت دیتا ہوں۔ پاکستان کی ترقی کے لیے میں پرعزم ہوں اور نواز شریف کے دیے ہوئے ترقی کے ویژن پر گامزن ہوں۔ انتھک محنت اور پختہ عزم سے ہی ترقی کا سفر طے کیا جا سکتا ہے۔ٹیم کے ہمراہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، طویل ترین سفر کا آغاز پہلے قدم سے ہوتا ہے جو ہم نے اٹھایا لیا اور ایک سال میں پاکستان کی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں