کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی سرزمین قدیم تاریخ، وسیع ثقافتوں اور بے پناہ صلاحیتوں سے مالامال ہے،ہم ان چیلنجوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے جو ہماری ترقی میں ہائل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان لیڈرشپ کنورسیشن 2025 کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ سندھ حکومت تمام چیلنجز پر قابو پانے اور آگے بڑھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ہمیں ان رکاوٹوں کو تسلیم کرنا چاہیے جن کا سامنا ہے، اور ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہمارا مشن ہے۔سماجی اور اقتصادی ناہمواری ہمارے بہت سے لوگوں کو متاثر کر رہی ہے
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کم شرح خواندگی، غذائی قلت اور بچوں کی اموات تشویش کا باعث ہیں جس پر قابو پانے کے لیئے اقدامات کر رہے ہیں،قدرتی آفات اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے یہ چیلنجز مزید بڑھ گئے ہیں،پانی کی قلت ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے زرعی معیشیت متاثر ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ غیر موثر زرعی پانی کے استعمال سے بڑے پیمانے پر نقصانات ہوتے ہیں،معیاری تعلیم تک رسائی کو بہتر بنانے کیلئے مختلف تنظیموں کے ساتھ سندھ حکومت نے شراکت داری کی ہے،خواندگی کی شرح میں اضافہ اور اسکولنگ میں صنفی تفاوت کو کم کرنا ترجیح ہے،غربت کے خاتمہ کیلئے تعلیم کا کردار کلیدی ہے،سندھ کے ہر بچے کو سیکھنے اور بڑھنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔شعبہ صحت کی بہتری کیلئے انتھک محنت کر رہے ہیں،بچوں کی اموات کم کرنا اور غذائی قلت کا مقابلہ کرنا سندھ حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی اسٹرکچر اور خدمات میں سرمایہ کاری جاری رکھیں گے،سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ ایک سنگ میل اقدام ہے
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پانی کے موثر استعمال کو فروغ دے کر زرعی معیشیت کے نقصانات کو کم کر رہے ہیں،جدید آبپاشی تکنیک کے ذریعے زرعی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنارہے ہیں،پانی فقط ہماری ضرورت نہیں بلکہ یہ ہمارے کسانوں کی بقا کا معاملہ ہے،کراچی، سندھ کا دل ہے جہاں جدید اور پائیدار ٹرانسپورٹیشن ضروری ہے،ہم نے صاف ستھرے اور موثر پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کی جانب ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے،کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر کو تبدیل کرنے کیلئے 500 الیکٹرک بسیں چلائی ہیں۔نئے سفری سہولت نے ٹریفک کے بہاؤ اور شہری فضائی آلودگی کو کم کیا ہے،8000 الیکٹرک بسیں چلانے کا جامع منصوبہ کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔تین مراحل میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کیلئے 8000 الیکٹرک بسیں شامل کریں گے،سی پیک دوئم سندھ کیلئے اقتصادی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کے نئے منصوبہ میں صنعت کاری و زرعی ترقی پر مرکوز ہے۔بنیادی اسٹرکچر کی ترقی اور توانائی کا بحران ہماری ترقی میں رکاوٹ ہیں۔نئے سی پیک منصوبے میں روزگار کے مواقع ملیں گے۔ہزاروں ملازمتیں پیدا ہونے سے معاشی استحکام ضرور پکڑے گا۔بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔متعدد منصوبوں کیلئے وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز اور وسائل کا حصول بہت ضروری ہے۔سندھ کی افرادی قوت ہنر مند ہے اور مستقبل کے چیلنجز کیلئے تیار ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کنہا تھا کہ ہم اپنے بنیادی اسٹرکچر کی تعمیر نو اور جدید بنانے کیلئے پرعزم ہیں،ہم ہر شعبے میں پائیدار طریقوں کو فروغ دینے کیلئے تیار ہیں،صوبے کی عوام کے ساتھ مل کر سندھ کی ترقی کرنا چاہتے ہیں،ہم سب مل کر پائیدار اور خوشحال سندھ بنائیں گے۔
