کراچی: قومی احتساب بیورو کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمدبٹ نے کہا ہے کہ کراچی میں 7500 ایکڑ زمینوں کے دستاویزات جعلسازی سے 3 ہزار ارب روپے کی کرپشن کی گئی ہے، یہ فائلیں کھول دیں تو دنگل مچ جائے گا،ایل ڈی اے، کے ڈی اے، ایم ڈی اے کی جانب سے انفرا اسٹرکچر مکمل نہ ہونے کی وجہ سے22 سال سے اپنے الاٹیز کو قبضے نہ دینا افسوسناک ہے، آباد ٹھوس شواہد پیش کرے تو ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ بلڈرز اور ڈیولپرز کے مسائل سے آگاہ ہوں، آپ کے ساتھ ہوں، آباد نیب کو اپنا دست بازو سمجھے۔
چیئرمین آباد نے کہا کہ کراچی میں 5 سال کے دوران 85 ہزار عمارتیں غیر قانونی طور پر تعمیر ہوئی ہیں، سندھ حکومت زمینوں کی شفاف نیلامی کرنے کے بجائے من پسند افراد کو فروخت کرتی ہے، لینڈ گرانٹ پالیسی متعارف کرائی جائے۔چیئرمیں نیب اور اسکی ٹیم نے آباد ہاؤس کادورہ کیا ۔
اس موقع پر تقریب میں چیئرمین آباد محمد حسن بخشی، سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید، وائس چیئرمین طارق عزیز، چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی، نیب سندھ کے ڈائریکٹر جنرل جاوید اکبر ریاض اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔
چیئرمین نیب نذیر احمد بٹ نے مزیدکہا مسئلہ کشمیر کی زمین سے بڑا مسئلہ کراچی کی زمینوں کا مسئلہ ہےکراچی میں بلڈرز کے بے شمار مسائل ہیں،تمام نوٹ کرلیے ہیں، نیب کا ادراہ بلڈرز اور ڈیولپرز کے ساتھ کھڑا ہے، نیب قوانین میں اصلاحات کی گئی ہیں، نیب میں کون سے کیسز اب فائل ہوں اس کا سسٹم اپڈیٹ کردیا ہے، آباد کراچی میں 85 ہزار غیر قانونی عمارتوں کے ثبوت پیش کرے تو یہ عمارتیں آبادکے مشورے پر ریگولرائز کی جائیں گی، اب کراچی میں نسلا ٹاور جیسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوگا۔
چیئرمین نیب نے انکشاف کیا کہ نیب نے سندھ میں 8 ماہ کے دوران 4 ہزار ارب روپے مالیت کی 18 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی سے قبضے چھڑواکر محکمہ ریونیو کے حوالے کی ہے۔ماضی میں ہر کوئی کسی کے خلاف بھی شکایت درج کرواسکتا تھا،چیئرمین کا منصب سنبھالنے کے بعد اصلاحت کی ہیں جس کے بعد نیب کے پاس شکایات کاحجم ماہانہ 4500 سے گھٹ کر 150 سے 200 پر آگیا ہے، 2022 سے قبل کے درج کی گئی تقریبا 21 ہزار شکایتوں کو ختم کردیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کسی نیب افسر نے کسی کو غیر قانونی ہراساں کیا تو اسکی شکایت کریں، ہر صورت ایکشن ہوگا۔آباد بلڈرز کے تمام مسائل میرے علم میں ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ سندھ زمینوں میں ریکارڈ کا کوئی سسٹم نہیں ہے، لینڈ ڈپارٹمنٹ کے الگ الگ محکمے کسی سے لنک نہیں۔عنقریب سندھ میں زمینوں کے ریکارڈ کے حوالے سے بڑا ایکشن لیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی ماسٹر پلان کی دیکھ ب بھال کیلئے چیئرمین نیب نے ڈی جی نیب کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی۔۔گوادر میں نیب کا ریجنل دفتر قائم کردیا وہاں بھی زمینوں میں کرپشن ہورہی ہے۔گوادر میں تقریبا 3 ہزار ارب روپے مالیت کی زمینوں پر مقدمات درج ہیں۔گوادر انڈسٹریل ایریا میں گزشتہ3 ماہ میں تین فیکٹریاں لگی ہیں نیب میں ون ونڈو آپریشن شروع کیا جارہا ہے۔پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے نئی پالیسی بنارہے ہیں۔رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ہرقسم کی ادائیگیوں کا نظام بینکوں کے توسط سے ہونا چاہیئے۔
قبل ازیں آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے چئیرمین نیب کے سامنے صوبائی اور بلدیاتی اداروں کی شکایتوں کے انبار لگا دیئے
انھوں نے کہا کہ سندھ میں زمینوں کی نیلامی کی کوئی پالیسی نہیں، من پسند افراد کو زمینیں فروخت کی جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سندھ میں لینڈ گرانٹ پالیسی لائی جائے توسندھ حکومت کو اس سے 500 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوگا۔
حسن بخشی نے کہا کہ ۔ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی،لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں کرپشن کا بازار گرم ہے۔ایل ڈی اے،ایم ڈی اے اور کے ڈی اے کے ماتحت چھوٹی رہائشی اسکیموں میں شہریوں کا سرمایہ پھنس گیا ہے۔چیئرمین آباد نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ نیب کے ساتھ ملکر مسائل کاحل نکالا جائے۔آج کراچی میں جو خوبصورت عمارتیں ہیں وہ آباد کی کاوش ہے۔ بلڈرز اور ڈیولپرز کا دارومدار زمینوں سے منسلک ہے۔
حسن بخشی نے کہا کہ کراچی میں ہونے والی غیر قانونی تعمیرات پر اس دور کے ڈی جیز کے خلاف کارروائی کی جائے۔ آباد کے پیٹرن ان چیف محسن شیخا نی نے کہا کہ زمینوں کی خریدو فروخت کیلئے نیب سے باقاعدہ جانچ پڑتال سے مشروط کیا جائے۔سندھ میں زمینوں کا ریکارڈ ڈیجیٹل ہونا چاہیے جس سے کرپشن ختم ہوگی۔سندھ میں زمینوں کے ریکارڈ میں خورد برد کا سلسلہ طول پکڑ گیا ہے۔کرپٹ ادارے اپنا ریکارڈ خود ڈیجٹل کررہے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن کے لیے تھرڈ پارٹی کی خدمات حاصل کی جائیں۔
