کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رزعی ٹیکس پہلے بھی تھا اور لوگ دے رہے تھے،فیلیئرز جو ایف بی آر کے تھے وہ ہمارے بھی تھے،ایس آر بی جب سے بنا کے ہر سال اپنے اہداف پورے کیئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس سال زراعت پر ایک ارب روپے کا ٹیکس جمع کر چکے ہیں۔وفاق کا کہنا یہ ہے کہ زرعی ٹیکس ایف بی آر جمع کرے گی۔ایف بی آر نے اپنی کوتاہیاں چھپانے کیلئے کہا کہ زراعت پر ٹیکس نہیں ہے ۔گزشتہ سال مئی میں ایف آئی ایف نے کہا زراعت پر ٹیکس لگا دیں۔ہم نے دستخط کرنے سے منع کر دیا کہ ایف بی آر ٹیکس نہی جمع کرے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ پہلی جولائی 2024ء سے زراعت پر نیا ٹیکس لاگو ہوجائے گا،یہ ٹیکس جع کرنا صوبائی حکومتوں کا معاملہ ہے، جی ایس ٹی جمع کرنا بھی صوبائی کام ہے۔میں نے منع کردیا یہ صوبائی معاملہ ہے سندھ حکومت خود جمع کرے گا۔
ایس آر بی کا پہلے سال 25 ارب روپے کا ٹیکس کا ہدف رکھا تھا اور مکمل کیا گیا۔زرعی ٹیکس بھی ایف بی آر لینا چاہتی تھی سندھ حکومت نے منع کیا۔ملک کو ہم ایسی صورتحال میں تو نہیں جا رہے کہ فوڈ سکیورٹی کا معاملا ہوجائے۔دریاؤں پر ڈیم بننے سے سندھ کی ہزاروں ایکڑز راضی غیرآباد ہو گئی ہے۔
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہر قانون میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے، زرعی انکم ٹیکس کا قانون موجود ہے۔آج کے ایک ہفتہ پہلے انہوں نے (وفاق) دوبارہ یہ مطالبہ شروع کیا۔ایسا نہیں ہوا تو آئی ایم ایف پروگرام ختم ہوجائے گا مشکلات پیدا ہونگی۔ہم چاہتے ہیں کہ زرعی ٹیکس میں بہتری آئے مگر ایسی جلد بازی نہیں ہونی چاہئے۔وفاق حکومت کو ہم سپورٹ کر رہے ہیں ان کی حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔سعید غنی، شرجیل میمن، ناصر شاہ، سردار شاہ اور میں زرعی ٹیکس پوری ایمانداری سے دیتے ہیں۔ہم مکمل ٹیکس دیتے ہیں، ہم ان سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں جو دوسرے طریقے سے آتے ہیں۔ایف بی آر نے ٹیکس اہداف مکمل نہیں کرتے ہوئے 15 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد کردیئے۔جب میں نے سوال پوچھا تو کہا لوگ ٹیکس نہیں دیتے تو بڑھا دیں۔ہاریوں پر یہ ٹیکس نہیں ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بینظیر ہاری کارڈ متعارف کرایا ہے۔سندھ حکومت بینظیر ہاری کارڈ پروگرام کو مستحکم کرینگے
