کراچی: وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیرصدارت سندھ انرجی ہولڈنگ کمپنی (ایس ای ایچ سی) کا اجلاس ہوا جس مں وزیر توانائی ناصر حسین شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری توانائی مصدق خان اور چیف آپریٹنگ آفیسر (ایس ایچ ای سی) طفیل کھوسو شریک ہوئے
اجلاس میں بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سندھ انرجی ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈمحکمہ توانائی کی ذیلی کمپنی ہے، سندھ انرجی ہولڈنگ کمپنی کی گمبٹ ٹو، مرادی بلاک، مٹھانی ، ایس ڈبلیو میانو تھری، ساون ساؤتھ ، کھیواڑی ایسٹ ، سیہون اور سجاول ساؤتھ بلاکس میں شراکت ہے۔کمپنی نے مختصر مدتی اقدامات کے تحت 8 بلاکس میں 2.5 فیصد ورکنگ انٹرسٹ کے ساتھ شراکت کی ہے۔3 کنویں پیداوار دے رہے ہیں جس سے 26-2025 میں 11 کروڑ 30 لاکھ روپے آمدنی متوقع ہے۔شاہ بندر میں گیس اور تیل کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، جلد پیداوار شروع کرنے کی کوشش جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے ورکنگ انٹرسٹ 2.5 فیصد سے 10 سے 15 فیصد تک بڑھانے کی پروسسنگ اور کمپنی کو نیا ایکسپلوریشن بلاک CCI کے فیصلے کی روشنی میں حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ لوئر انڈس بیسن 113083 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 350 دریافتیں ہوئیں، تلاش میں کامیابی کا تناسب 61 فیصد ہے۔کیرتھر بیسن میں 2.51 ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے دریافت شدہ ذخائر ہیں، مزید 4.8 ٹریلین کیوبک فٹ کی دریافت متوقع
مستقبل کی حکمت عملی کے تحت ہائی رسک اور زیادہ لاگت والے فرنٹیئر ایکسپلوریشن میں مکمل شراکت سے گریز کرنے کی ہدایت
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت تیل اور گیس کی دریافت اور پیداواری کمپنیوں کی جانب سے نجی فریقین کو 35 فیصد فروخت کے فریم ورک میں سندھ کی رائے کو شامل کرے،ہمارااہم مطالبہ یہ ہے کہ سندھ کی رضا مندی کے بغیر کوئی فروخت مجاز نہیں ہوگی۔تیل اور گیس کی پیداوار کے تازہ ترین اعداد و شمار باقاعدگی سے وفاق سندھ کو فراہم کرے۔سندھ گیس پیداوار میں ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔ہم تمام وفاق کی پیٹرولیم کمپنیوں میں سندھ حکومت کی نمائندگی چاہتے ہیں
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وزارت پیٹرولیم وفاقی تیل کی کمپنیوں سے اپنے نمائندے 2 سے کم کر کے ایک کرے اور ان کی جگہ سندھ کے نمائندے رکھے۔وفاقی تیل کی کمپنیوں میں او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ایس ایس جی سی ایل، پی ایس او، جی ایچ پی ایل اور ایم پی سی ایل شامل ہیں۔آئین کے آرٹیکل (3) 172کےتحت پیٹرولیم کنسیشن ایگریمنٹ (پی سی اے)یا سپلیمنٹل ایگریمنٹ کو وفاقی وزارت پیٹرولیم اور حکومت سندھ کے مشترکہ دستخط سے منظور کیا جائے۔سندھ میں واقع گیس فیلڈ سے پیدا ہونے والی گیس کی صوبے کو فراہمی سے جو کٹوتی ہوتی ہے اس کے اعدادوشمار بروقت شیئر کیئے جائیں۔مقامی گیس چونکہ سستی ہے اس لیے اس کی فراہمی سے کٹوتی کر کے صوبے کے عوام کو محروم نہ کیا جائے۔
