یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کے تقرر کو بہتر کیا گیا ہے: شرجیل میمن

کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے  کہا ہے کہ سندھ کابینہ کے فیصلے کے مطابق یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کے تقرر کو بہتر کیا گیا ہے، اب یہ طریقہ اختیار کیا جارہا ہے کہ استاد ، وائس چانسلر کے نمائندے کے ساتھ ساتھ کوئی ریٹائرڈ اور متعلقہ شعبے کا ماہر بھی وائس چانسلر کا امیدوار ہوسکتا ہے،  موجودہ نظام کے تحت کوئی بھی پروفیسر وی سی مقرر ہو سکتا ہے،   پروفیسر کے بطور وی سی تقرری کا قانون بھی پاکستان پیپلز پارٹی نے ہی بنایا تھا، ایسا نہیں ہے کہ کوئی پروفیسر وی سی مقرر نہیں ہو سکتا  لیکن اس کو  مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا  ڈائریکٹوریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ یونیورسٹی کے سابقہ وی سی علامہ ائی آئی آئی قاضی، مظہر الحق صدیقی، نثار صدیقی،  مہران یونیورسٹی کے مظفر شاہ بیوروکریٹ تھے، مگر وہ وی سی تعینتات ہوئے،  پہلے 8  جامعات  تھے آج سندھ میں 30 یونیورسٹیز ہیں، درخواست گزار محدود ہوجائیں گے تو کیا کریں گے،  نئے طریقہ  کار کے تحت عمر کی حد 62 سال اور متعلقہ فیلڈ میں پی ایچ کی شرط رکھی گئی ہے،  تمام اسٹیک ہولڈرز سے گذارش ہے کہ حکومت  سندھ کے ساتھ تعاون کریں۔

انہوں  نے کہا کہ گزشتہ روز ایک تاجر رہنما نے ایک وفاقی وزیر کی موجودگی میں کچھ ریمارکس دیئے اس پر کہنا چاہوں گا کہ پنجاب بھی ہمارا صوبہ ہے اور پنجاب میں موٹر ویز کی ترقی  ہو رہی ہے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وفاقی حکومتیں زیادہ تر پنجاب کے جماعتوں  کی ہی رہیں، انہوں نے موٹر ویز پر توجہ دیجبکہ سندھ میں موثر ویز کے حوالے سے زیادتی ہوتی رہی ہے جس کا ہم نے اظہار بھی کیا ہے۔ وفاق منصوبوں میں سندھ یاباقی صوبوں کے ساتھ کتنی زیادتی ہوئی، ہمارے پاس فہرست موجود ہے،  لیکن وزرائے اعلیٰ کا موازنہ کرنا ہے تو  مختلف  میگا پروجیکٹس کو دیکھنا چاہئے، صوبہ سندھ میں توانائی کے شعبے میں  تھر کول جیسے منصوبے پر کام ہوا، تھر کول کا منصوبہ پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ نے شروع کیا، پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس منصوبے کو  بند کردیا ، 2008 میں صدر آصف علی زرداری کی حکومت دوبارہ آنے پر  تھر کول منصوبے پر کام دوبارہ شروع کیا گیا۔ آج تھر کا کوئلہ پورے ملک میں سب سے سستا کوئلہ ہے اور اس کی بجلی سب سے سستی ہے، ماہرین بھی مانتے ہیں کہ  سب سے سستی بجلی تھر کے کوئلے سے ہی بن سکتی ہے۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صحت کے شعبے میں صوبہ سندھ سب سے آگے ہے،  این آئی سی وی ڈی، این آئی سی اچ، سائبر نائف جیسا ایک بھی ماڈل پاکستان کے کسی صوبے میں نہیں ملے گا،  سندھ کے گمبٹ ہسپتال میں جگر اور پھیپھڑے کی مفت میں پیوندکاری ہو رہی ہے، ایسا ماڈل کہیں نہیں ملے گا، سندھ کا سائبر نائف دنیا کا واحد یونٹ ہے جہاں مفت علاج ہوتا ہے۔ انسانی صحت اور جان سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔

انہوں  نے کہا کہ  حکومت سندھ سڑکوں کی بہتری کے لئے کام کر رہی ہے، سندھ کی جامعات بہترین تعلیمی خدمات فراہم کر رہی ہیں،  سولرائزیشن کے منصوبے کے تحت حکومت سندھ لاکھوں افراد کو سستی ترین سولر بجلی فراہم کرنے کے منفرد منصوبے پر کام کررہی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویژن کے تحت دنیا میں سیلاب متاثرین کیلئے 21 لاکھ گھروں کی تعمیر اور مالکانہ حقوق کے ساتھ فراہمی سندھ حکومت کا ایک اہم ترین منصوبہ ہے۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پر عوام نے ہر نئے الیکشن میں پہلے سے زیادہ اعتماد کیا اور زیادہ ووٹ دیئے۔پیپلز پارٹی کی عوام میں پذیرائی ہے،  کچھ چیلنجز ہیں اور حکومت سندھ ان سے نمٹنے  کے لئے کوشاں ہے۔ صدر آصف علی زرداری ، چیئرمین بلاول  بھٹو زرداری، محترمہ فریال تالپور اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سندھ کی ترقی کیلئے بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں ،  آج بھی سندھ کی جانب سب صوبوں سے لوگ روزگار اور کاروبار کئے رخ کررہے ہیں یہ سندھ حکومت کی کارکردگی کا ایک اہم ثبوت ہے، پورا پاکستان اور سارے صوبے ہمارے صوبے اور  ہمیں پیارے ہیں اور  سندھ سب صوبوں کے لوگوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں حکومت سندھ کے 180 ارب روپے  محکمہ ایکسائز کے سیس ٹیکس کے پھنسے ہوئے ہیں،  سیس ٹیکس  کی یہ رقم حکومت سندھ کو ملنی چاہئے،  سندھ اپنے محدود مالی وسائل میں اپنے عوام کی بہترین خدمت کررہا ہے، ہم کہتے ہیں کہ خدارا وہ پیسے سندھ کو دیں تاکہ یہاں کام ہو سکیں۔

ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چینی شہریوں کے  حوالے سے وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ پہلے ہی وضاحت دے چکے ہیں، ہمیں چینی شہریوں کا تحفظ اپنی جان سے بھی زیادہ  عزیز ہے،  سکیورٹی کے سلسلے میں کچھ ایس او پیز بنائی گئی  ہیں  ہم چاہتے ہیں کہ سب ان ایس او پیز پر عمل کریں۔

ایک اور سوال کے جواب میں  سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پروفیسر یقیناً وائس چانسلر بن سکتے ہیں لیکن انتظامی ماہرین میں سے بھی اگر بہتر نمائندہ مل سکتا ہے تو اسے بھی موقع ملنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

ایک  سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت پی ٹی آئی  سنجیدہ اندرونی تضادات کا شکار ہے،  ہم چاہتے ہیں کہ وہ مذاکرات کی ٹیبل پر آئیں اور ملک کے خلاف  غیر ملکی سازشیں بند کردیں، جب ان کے بانی کو سزا ہوئی تو ایک شخص بھی احتجاج کے لئے باہر نہیں نکلا۔

ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کرتا ہوں،  تجاوزات کے خلاف کارروائی جب بھی شروع کی جاتی ہے تب بھی یہاں معاوضہ دینا پڑتا ہے۔سندھ واحد صوبہ ہے  جس کو تجاوزات ہٹانے پر معاوضہ بھی دینا پڑتا ہے، تجاوزات کے خلاف ایکشن پر پولیس پر حملے ہوتے ہیں، حکومت کو عوامی ردعمل کے مطابق فیصلے کرنے پڑتے ہیں ۔ ہمیں اپنی سوچ میں بہتری لانی چاہئے اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کے وقت تجاوزات کرنے والوں کے خلاف حکومتی کارروائی میں تعاون کریں۔

ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر  شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے صدر آصف علی زرداری کے دور میں این ایف سی ایوارڈ لیا اور پارلیمنٹ کو ہمیشہ کیلئے مضبوط کردیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں