کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے رسالہ پولیس اسٹیشن کا سرپرائیز دورہ کیا، وزیر داخلا ضیاء الحسن لنجار بھی وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ موجود تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ میں شہر کراچی کے تھانوں کا دورہ کرتا رہوں گا،پولیس عوام کی مدد کرے، جان و مال کی حفاظت یقینی بنائے،
وزیراعلیٰ سندھ نے رسالہ تھانے کی حدود میں زیر تعمیر وومین پولیس اسٹیشن کا معائنہ کیا
سید مراد علی شاہ نے کہاکہ کافی ٹائم سے کام جاری ہے تو مکمل کیوں نہیں ہو رہا؟ وزیراعلیٰ سندھ نے وومین پولیس اسٹیشن کی تعمیر میں تاخیر پر وزیر داخلہ سے رپورٹ طلب کرنے کی ہدایت کردی
وزیراعلیٰ سندھ نے رسالہ ماڈل پولیس اسٹیشن کی نئی عمارت کا معائنہ کیا اور عمارت میں لیڈیز ڈیسک کا بھی جائزہ لیا
وزیراعلیٰ سندھ نے فسیلیٹیشن ڈیسک پرمعلومات لی، انہیں بتایا گیا کہ جو بھی شکایت آتی ہے اس کو کمپیوٹرائیڈ کیا جاتا ہے۔
کمپلین رجسٹر پر وزیراعلیٰ سندھ نے لیڈیز ڈیسک پر ایک لیڈی کانسٹیبل کا ڈیوٹی پر ہونے پر اظہار برہمی کیا اور لیڈیز ڈیسک پر کوئی تجربہ کار لیڈی پولیس کو رکھنے کی ہدایت کی
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ رسالہ ماڈل پولیس اسٹیشن پر 100 سے زائد نفری ہونی چاہئے لیکن 65 نفری مقرر ہے، تھانے کا ریکارڈ چیک کرنے پر وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹ کیا کہ 83 کی نفری ہونی چاہیئے
وزیراعلیٰ سندھ نے ڈے نائٹ شفٹ ہونے کی حساب سے آدھی نفری نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کل کی حاضری 20 کی بھی نہیں ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے ایس ایس پی سٹی کو تھانوں پر اسٹاف کی ڈیوٹی یقینی بنانے کی ہدایت کردی
وزیراعلیٰ سندھ نے رسالہ ماڈل پولیس اسٹیشن کا لاک اپ چیک کیا اور کہا کہ مجھے کوئی بے گناہ لاک اپ میں بند نظر نہیں آنا چاہیئے
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق لاک اپ میں 9 افراد بند تھے، وزیراعلیٰ سندھ نے لاک اپ میں بند افراد کی ایف آئی آر رجسٹر میں چیک کیں اور ایس ایچ او کو ان کے دفتر میں سی سی ٹی وی کیمرا لگانے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایس ایس پی کو اپنے تھانوں کو بہتر رکھنے کی ہدایت دی۔
