وفاقی دارلحکومت اسلام آباد و دیگر شہروں میں فوج تعینات

اسلام آباد (رپورٹ) وفاقی کابینہ نے مختلف شہروں میں پر تشدد واقعات کے دوران املاک کو نقصان پہنچے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے امن و امان کی صورت حال کی پیش نظر وفاقی وزارت داخلہ کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام اباد ،پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پاکستان فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی،

کابینہ نے فیصلہ کیا کہ آئین اور قانون کے منافی سرگرمیوں کو آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے، دہشت گرد ی اور توڑ پھوڑ کرنے والوں سے کوئی رعایت نہ برتی جائے ، ریاستی وسرکاری اداروں، نجی املاک، عوام کے جان ومال کے تحفظ، آئین اور قانون کے مطابق موثر اقدامات کئے جائیں ، عوام کے جان ومال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اس فرض کی تکمیل ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

وزیراعظم کے پریس ونگ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس بدھ کو یہاں منعقد ہوا ۔ اجلاس کے آغاز میں وزیرِ اعظم نے کابینہ کو اپنے دورہء برطانیہ سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ انکا برطانیہ کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ انہوں نے کنگ چارلس سوم کو ان کی تاجپوشی پر مبارکباد دی اور ان تک پاکستانی عوام کی نیک خواہشات پہنچائیں ۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ انہوں نے کنگ چارلس سوم کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کر لی ۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیرِ اعظم رشی سینک سے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔انہوں نے کہا کہ تاجپوشی کی تقریبات کے دوران ان کی دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں جن میں دو طرفہ تعلقات اور عالمی امور پر گفتگو ہوئی۔وفاقی کابینہ کا مختلف شہروں میں پر تشدد واقعات کے دوران املاک کو نقصان پہنچے جانے کی شدید مذمت کی اوراس حوالے سے مذمتی قرارداد منظور کی گئی ۔وفاقی کابینہ نے وفاقی وزارت داخلہ کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پنجاب ،خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں پاکستان آرمی کی تعیناتی کی منظوری دی

۔وفاقی کابینہ نے آر سٹریٹ واشنگٹن ڈی سی میں واقع پاکستا چانسری کی پرانی عمارت سب سے بہترین آفر میں فروخت کرنے کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی براے توانائی کے 28 اپریل 2023 میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی ۔وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 28 اپریل اور 10 مئی 2023 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی ۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی صورتحال پر غور کیاگیا۔اجلاس نے پاکستان تحریک انصاف اور اس کے چئیرمین عمران خان کی طرف سے ایک عرصے سے مسلسل اداروں اور ان کی قیادت کو نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ قاتلانہ حملوں سے لے کر قومی اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے تک کے مذموم الزامات ایک تسلسل کے ساتھ عائد کئے جارہے ہیں۔ اجلاس نے نشاندہی کی کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کاسوچے سمجھے منصوبے کے تحت حساس اداروں اور ان کے افسران کو نشانہ بنانا ایک تسلسل ہے جو اب حساس اداروں اور عمارات پردہشت گردانہ حملوں میں تبدیل ہوچکا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائےکم ہے، یہ رویہ پی ٹی آئی کی ماضی کی روش اور طرزعمل کے عین مطابق ہے بلکہ اس میں اب مزید شدت آگئی ہے۔ یہ آئینی، قانونی یا جمہوری رویہ نہیں بلکہ دہشت گردی اور ملک دشمنی ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیاجاسکتا۔

اجلاس نے قرار دیا کہ کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کے ٹھوس شواہدپر مبنی سنگین مقدمے میں نیب نے ایک قانونی عمل کے ذریعے عمران خان کو گرفتا رکیا جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانونی قرار دیا۔ مزید برآں آج احتساب عدالت نے تفصیلی بحث اور سماعت کے بعدبھی اس گرفتاری کو قانونی قرار دیا ہے لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی قیادت کے اکسانے پر پورے ملک میں امن وامان کی سنگین صورتحال پیدا کردی گئی ہے ۔ اجلاس نے عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کے اکسانے پر چند سو دہشت گردوں اور مسلح جتھوں کے ملک میں جلائو گھیرائو، حساس سرکاری ونجی املاک کو آگ لگانے، توڑپھوڑ، ساز وسامان اور آلات کی لوٹ مار، ریڈیو پاکستان، اے پی پی اور پی ٹی وی کے انفراسٹرکچر پر حملوں، قومی نشریات رکوانے کی کوشش، گاڑیاں اور ریکارڈ نذرآتش کرنے، شہریوں اور سرکاری اہلکاروں کے زخمی ہونے کے واقعات کی شدید مذمت کی۔ اجلاس نے ایدھی اوردیگر ایمبولنسز کے مریضوں کو نکال کر گاڑیاں جلانے سمیت دیگر مقامات پر مسافر شہریوں کو محصور اور ہراساں کرنے کے واقعات جیسی کھلی دہشت گردی کی شدید مذمت کی۔ اجلاس نے غازیوں اور شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی، پشاور میں چاغی ماڈل کو آگ لگانے جیسے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئین اور قانون کے تحت احتجاج اگرچہ ایک بنیادی جمہوری حق ہے جسے آئین اور قانون کی متعین حدوں کے اندر ہونا چاہیے لیکن کسی بھی مہذب ملک اور معاشرے میں اس نوع کی لاقانونیت کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اجلاس نے طے کیا کہ آئین اور قانون کے منافی سرگرمیوں کو آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے، دہشت گرد ی اور توڑ پھوڑ کرنے والوں سے کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ ریاستی وسرکاری اداروں، نجی املاک، عوام کے جان ومال کے تحفظ آئین اور قانون کے مطابق موثر اقدامات کئے جائیں، عوام کے جان ومال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس فرض کی تکمیل ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ اجلاس نے عوام کو خراج تحسین پیش کیا ہے کہ انہوں نے ریاست دشمنی اور دہشت گرد رویوں کو مسترد کیا اور آئین وقانون کا ساتھ دیا۔اجلاس نے پولیس، قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں، انتظامیہ اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے تمام خطرات کے باوجود سرکاری ونجی املاک اور عوام کے جان ومال کو بچانے کے لئے خدمات انجام دیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں