آباد کا ممبران کے پلاٹوں سے قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ،کلفٹن میں رہائشی پلاٹس کمرشل استعمال پر اظہار تشویش

آباد کا ممبران کے پلاٹوں سے قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ،کلفٹن میں رہائشی پلاٹس کمرشل استعمال پر اظہار تشویش

کراچی: ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین آصف سم سم اور سینئر وائس چیئرمین ابراہیم حبیب نے  بڑھتی ہوئی تجاوزات،  پلاٹوں کی خرید وفروخت ،ٹرانسفر پر سروسز چارجز اور دیگر ٹیکسز میں اچانک اضافے اور کلفٹن کے علاقے کے کے ڈی اے کے رہائشی پلاٹوں کوکمرش مقاصد کے لیے استعمال ہونے پرتشویش کااظہار کیا ہے اور ان مسائل کوفوری حل کرنے کا  مطالبہ کیا ہے۔

آباد ہاؤس میں ڈائریکٹر جنرل کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی سید شجاعت حسین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا جس میں آباد کے مسائل حل کرنے کے لیے  کے ڈی اے کے سینئر ڈائریکٹر ایم وریال اندھار کو  فوکل پرسن مقرر کیا گیا جبکہ کے ڈی اے کی گورننگ باڈی میں آباد کے ایک ممبر کو شامل کرنے کی منظوری دی گئی ہے جس کے لیے انھوں نے آباد کوایک لیٹر ارسال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس میں آباد کے وائس چیئرمین ذیشان صدیقی، چیئرمین سدرن ریجن مصطفیٰ شیخانی، کے ڈی اے کے افسران اور آباد ممبران کی بڑی تعداد شریک تھی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آباد کے چیئرمین آصف سم سم نے کہا کہ آباد ممبران کے پلاٹوں پر غیر قانونی طور پر تجاوزات قائم ہورہی ہیں جس سے بلڈرز اور ڈیولپرز  شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

آصف سم سم نے ڈی جی کے ڈی اے سے اپیل کی کہ تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

اس موقع پر آباد کے سینئر وائس چیئرمین ابراہیم حبیب نے کہا کہ  کلفٹن کے علاقے  بلاک 8 اور 9  میں کے ڈی اے کے لیزشدہ  رہائشی پلاٹس کمرشل مقاصد کے لیے استعمال ہورہے ہیں جس  کے خلاف کے ڈی اے کو سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ انھوں نے ڈی  جی کے ڈی اے کوتجویز دی کہ کے ڈی اے،آباد اور کلفٹن ریزیڈنٹس سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل ہائی پروفائل کمیٹی تشکیل دی جائے  جو سروے کرکے رپورٹ پیش کرے  جس کی روشنی میں رہائشی پلاٹوں کوکمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں کی لیز منسوخ کی جائے۔

ابراہیم حبیب نے مزیدکہا کہ  کے ڈی اے نے پلاٹوں کی خرید وفروخت،پلاٹوں کی ٹرانسفار، میوٹیشن، لیزمیں توسیع  اور این او سی  ودیگر  پر چارجز میں اچانک اضافہ کردیا ہے جس پر آباد کوتشویش ہے۔ انھوں نے ڈی جی سے اپیل کی کہ کسی بھی ٹیکس میں اضافے سے قبل اسٹیک ہولڈر سے مشاورت کی جائے تاکہ تمام امور باہمی  ہم آہنگی سے انجام دیے جائیں۔

سینئر وائس چیئرمین نے کہا کہ  یونیورسٹی روڈ پر آباد کے ممبران  نے  نیلامی  کے پلاٹس خریدے ہیں لیکن افسوسناک امر ہے کہ ان پلاٹس پر غیر قانونی طورے پر قبضے کرلیے گئے ہیں۔انھوں نے ڈی جی سے اپیل کی کہ کے ڈی اے کے انسداد تجاوزات سیل کوفعال کرکے تجاوزات کاخاتمہ کرکے ہمارے پلاٹس خالی کرائے جائیں۔

اس موقع پر کے ڈی اے  کے ڈی جی شجاعت حسین نے کہا کہ آبادکے مسائل حل کرنااولین ترجیح ہے۔ ملکی معیشت میں کنسٹرکشن انڈسٹری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ تعمیراتی سرگرمیاں جاری رہنے سے بے روزگاری کے خاتمے سمیت ٹیکز کی مدمیں بھی قومی خزانے کو  ریونیو کی مد میں اربوں روپے کافائدہ ہوتا ہے۔

شجاعت حسین نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر نیلامی والے پلاٹوں پر سے تجاوزات کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ کلفٹن کے ریزیڈنشل پلاٹس کو کمرشل میں استعمال کوبھی روکا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ڈی جی نے ایک کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ باہمی مشاورت کے بعد کمیٹی تشکیل دے کر اس مسئلے کوحل کیا جائے گا۔

ڈی جی نے پلاٹوں کی خرید وفروخت،منتقلی سمیت دیگر ٹیکسز کے حوالے سے آباد  ممبران اورکے ڈی اے کے افسران پر مشتمل کمیٹی  کابھی  اعلان کیا ہے جس کے لیے یکم اکتوبر کااجلاس بلا لیاگیا ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں