منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والے اشیاء کی فروخت پر پابندی عائد

حکومت سندھ نے منشیات کی تیاری و کھپت میں استعمال ہونے والے اشیاء کی فروخت پر پابندی عائد کردی

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی ہدایات پر کمشنر کراچی نے احکامات جاری کر دیئے

لکڑی، ایکریلک، شیشے، پتھر، پلاسٹک و سیرامک کے پائپ، روچ کلپس، چلم، بونگس، میریجوانا پائپ اور دیگر اشیاء کی فروخت پر قلم 144 نافذ کردیا گیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ تھانوں کے سٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز) پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 188 کے تحت خلاف ورزیوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کے مجاز ہیں۔

صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ یہ پابندی سندھ میں منشیات کے استعمال کے خلاف جاری ہماری جنگ میں ایک اہم قدم ہے۔ہمارا مقصد ایسے آلات کی دستیابی کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو منشیات کے کھپت میں استعمال ہوتے ہیں۔عوام، خاص طور پر نئی نسل، کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کرتے رہیں گے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں