ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے رواں سال 32 ہزار 173 آپریشن کیے،گشتہ ایک ماہ میں 4 ہزار21 آپریشن کیے گئے جن کے دوران 90خوارج کو جہنم واصل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 25 اور 26 اگست کو خوارج نے بلوچستان میں دہشتگردی کے حملے کئے،دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے دوران 14 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا،بلوچستان میں ترقی اور عوامی بہبود کے کاموں میں بیرونی عناصر رکاوٹیں ڈالنے کے درپے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر 130 سے زائد آپریشنز کئے جارہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشتگردواں اور سہولتکاروں کو واضح پیغام دیتے ہیں، ظالموں کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، خوارج کا بلوچستان کی روایات سے کوئی تعلق نہیں،ہر پاکستانی کا خون مقدس ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک فوج احتسابی عمل پر یقین رکھتی ہے،پاک فوج کا خود احتسابی نظام ایک جامع شفاف اور مضبوط عمل ہے،یہ خود احتسابی کا عمل الزامات کے بجائے ٹھوس ثبوتوں پر کام کرتا ہے،جب بھی فوج کے آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو یہ بلا تفریق تیزی سے حرکت میں آتا ہے،12-10-2024 کو آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ علامے میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید رٹائرڈ کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کے بارے میں بتایا گیا تھا۔
ڈی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید رٹائرڈ کے کیس کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو ٹاپ سٹی کیس میں رٹائرڈ افسر کے خلاف باضابطہ درخواست موصول ہوئی،پاک فوج کے خود احتسابی نظام پر اعتماد رکھتے ہوئے یہ معاملہ منسٹری آف ڈفینس کے ذریعے فوج کو بھجوایا گیا۔اپریل 2024 میں پاک فوج کی طرف سے ایک اعلیٰ سطح کورٹ آف انکوارئری کا حکم دیا گیا،تاکہ اس کیس کی مکمل تحقیقات کی جا سکے، ٹھوس شواہید اور تفصیلی انکواری کے بعد پاک فوج نے آگاہ کی کہ متعلقہ ریٹارڈ افسر نے پاکستان آرمی ایکٹ کی خلاف ورزیاں کی،ان بنیادوں پر فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا آغاز کیا جا چکا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی ایک قومی فوج ہے اس کا کوئی سیاسی ایجنڈانہیں ہے، نہ کسی سیاسی جماعت کی مخالف ہے اور نہ ہے کسی کی طرف دار،اگر فوج میں کوئی شخص اپنے ذاتی یا سیاسی ایجنڈے پر کام کرتا ہے تو پاک فوج کا خود احتسابی عمل حرکت میں آتا ہے،متلقہ افسران کو قانون حقوق حاصل ہونگے جیساکہ اپنا وکیل کرنا اور اپیل کرنا وغیرہ وغیرہ
ڈی جی آئی ایس پی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید رٹائرڈ کیس اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج ذاتی اور سیاسی مفادات کیلئے کی گئی خلاف ورزیوں کو کس قدر سنجیدگی سے دیکھتی ہے اور بلا تفریق قانون کے مطابق فوری کارروائی کرتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں احساس محروم کا بیانیہ بنانے والوں کو بیرونی فنڈنگ ہوتی ہے، بلوچستان میں کام کرنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے،بلوچستان دیگر صوبوں سے آنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ ترقیاتی کام نہ ہوں۔ معصوم شہریوں کو بسوں سے اتار اتاکر مارنہ کونسی انسانیت ہے۔دہشتگردوں میں اگر ہم ہے تو ہمت سے آکر لڑیں۔
