حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکارات کامیاب ہونے کے بعد دھرنا مؤخر کیا گیا۔
مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد دونوں فریقین نے معاہدے پر دستخط کردیے جس کے بعد امیر جماعت اسلامی نے دھرنا مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔
معاہدے کے تحت حکومت نے بجلی کی قیمت کم کرنے اور آئی پی پیز کے معاملے کا ٹاسک فورس کے ذریعے جانچ پڑتال کی جائے گی۔
نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کاہ کہ کارکنان نے جمہوری تاریخ رقم کی، راستے میں کئی رکاوٹیں آئیں اور کارکنان کو گرفتار بھی کیا گیا، گرفتار کارکنان رہا ہوئے اور خواتین کا بھی تاریخ ساز جلسہ ہوا۔
ان کا کہنا تاھ کہ حکومت کی جانب سے محسن نقوی اور عطا تارڑ نے رابطہ کیا ارو مذاکرات کی شواہش دکہائی، اور پھر دھرنے میں آئی اور حافظ نعیم سے ملاقات کی۔
نائب امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور جماعت اسلامی کی تشکیل کردہ کمیٹیوں نے کمشنر راولپنڈی کے دفتر میں مذکرات ہوئے اور پھر ٹیمیں گم ہوگئیں لیکن پھر مذاکرات شروع ہوئے،حکومتی میٹی نے جماعت اسلامی کے گھرنے کے مطالبے سے اتفاق کیا۔
حکومتی کمیٹی کے رکن اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ بجلی کی قیمتیں کم ہوں گی جو جلد نظر آئیں گی، ہم نے واعدہ کیا ہے کہ ہم اس پر عمل کرینگے،جو بل جاری ہوئے ہیں ان پر 15 دن کی توسیع کردی ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سب کی سوچ پاکستان کو پرامن بنانا ہے،وزیراعظم کی ہدایات پر مذاکرات ہوئے، وزیراعظم نے کا کہ جماعت اسلامی کو عزت دینی ہے،اللہ پاک سب کو پر امن کام کی توفیق دے۔
