
سماجی رہنما سندھو نواز گھانگھرو عادت کیلئے اسپتال پہنچے جہاں وہ صوبیہ بتول کے زخم دیکھ کو اپنے آنسوں نہ روک سکی
صوبیہ بتول نے سندھو نواز گھانگھرو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ والد نے کلہاڑیاں ماریں، میں نے کہا کہ میں عدالت سے کیس واپس لیتی ہوں، آپ تشدد نہ کریں، پھر بھی ابو کلہاڑیاں مارتے رہے۔
نوشہروفیروز کی صوبیہ بتول سے انصاف کیلئے سوشل میڈیا پر بھرپور آواز اٹھائی جارہے ہے، پولیس نے واقعے کا مقدمہ بھی درج کرنے کے بعد مرکزی ملزم صوبیہ کے والد اور غلام مصطفیٰ اور قربان شاہ کو گرفتار کرلیا ہے۔
واضح رہے کہ صوبہ سندھ کے ضلع نوشہروفیروز کے علاقے گل ٹاؤن میں 26 جولائی کی رات کوشادی شدہ لڑکی صوبیہ بتول پر ترتشدد کا واقعہ سامنے آیا تھا۔
شوہر کے خلاف عدالت جانے پر والد نے بھائی سے ملکر بیٹی صوبیہ بتول کی ٹانگیں توڑدیں تھیں، اطلاع پر پولیس نے پہنچ کر صوبیہ بتول کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا
صوبیہ بتول نے میڈیا کو بتایا کہ گھرو مسائل کے بعد خاوند کے خلاف عدالت میں درخواست دی جس پر میرے والد مطفیٰ شاہ،قربان علی شاہ، محمد علی شاہ، عرفان شاہ اور شاہنواز شاہناراض ہوئے اور کلھاڑیاں مارکر ٹانگیں توڑ دیں۔
زخمی لڑکی صوبیہ بتول کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کے بعد ساری رات ٹانگوں سے خون بہتا رہا مگر ہمسائے دیکھ تے رہے،صبح کو پولیس نے پہنچ کر اسپتال پہنچایا، جان کو خطرہ ہے، تحفظ دیا جائے۔
