کراچی: یورپی یونین کی مالی تعاون سے چلنے والی گروتھ فار رورل ایڈوانسمنٹ اینڈ سسٹین ایبل پروگریس (GRASP) کی جانب سے انشورنس پالیسیوں کے اجراء کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جو سندھ اور بلوچستان کے باغبانی اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں ایس ایم ایز (SMEs) کو بااختیار بنانے کے مشن میں ایک انقلابی کامیابی ہے۔
تقریب میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی بااثر شخصیات نے شرکت کی جن میں چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ کے سی ای او نادر گل بریچ، منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او سلام تکافل رضوان حسین اور اسٹریٹجک اقدامات کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر و سربراہ وجاہت خواجہ شامل تھے۔
GRASPایکسیس ٹو فنانس (A2F) کے جزو کے تحت ایم ایس ایم ایز کی مدد کے لئے گرانٹس اور مالیاتی اداروں کےساتھ روابطقائمکرنے کی دوہری حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ 24 مالیاتی اداروں (FIs) کے ساتھ مل کر اس اقدام کا مقصدایس ایم ایزکےمصنوعاتکو برآمدی رسائی کے مواقع فراہم کرنا، قرضوں کی رسائی کو بڑھانا اور فصل اور لائیو سٹاک انشورنس کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
اب تک اس اقدام نے 418 ملین روپے مالیت کے 127 قرضے تقسیم کیے ہیں، جس میں انشورنس کے ذریعے سندھ اور بلوچستان میں زرعی خطرات کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ پی پی اے ایف کے پارٹنر سلام تکافل کے تعاون سے یہ منصوبہ پائیدار زرعی ترقی کا ہدف رکھتا ہے۔ اس نے 328 ایکڑ پر محیط 25 انشورنس پالیسیاں تقسیم کی ہیں جن کی مالیت 27 ملین روپے ہےاور جس کا مقصد کاشتکار برادری کےمالی، سماجی و معاشی حالات کو بہتر بنانا ہے۔
ایس ایم ایز پر قدرتی آفات کے خطرات اور اثرات اور انشورنس پالیسیوں کے ممکنہ فوائد کے بارے میں بات کرتے ہوئے، صوبائی سربراہ (سندھ) انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر رضوان طارق نے کہا”موسمیاتیتبدیلی ایک حقیقت بن چکی ہے جسے ہمیں قبول کرنا ہوگا اور اس نے چھوٹے کسانوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ماضی میں اس سے متاثر ہونے والےآج تک اپنے کاروبار کو بحال نہیں کر سکے ہیں۔ یہ انشورنس ایس ایم ایز کو غیر متوقع صورتحال میں اپنے نقصانات کو پورا کرنے میں مدد دیں گے۔اس سے پہلے قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے لوگ آج تک اپنے کاروبار کو بحال نہیں کر سکے ہیں۔ یہ انشورنس ایس ایم ایز کو غیر متوقع صورتحال میں اپنے نقصانات کو پورا کرنے میں مدد دیں گے۔ ”
پی پی اے ایف کے سی ای او نادر گل بریچ نے فصل اور لائیو سٹاک انشورنس کے اہم کردار کے بارے میں گراں قدر بصیرت فراہم کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا "پاکستان میں تباہ کاریوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ایسی صورت حال میں، چھوٹے کسانوں کے کاروباری استحکام کے لئے انشورنس پالیسیاں اہم بن جاتی ہیں۔ ہم سندھ اور بلوچستان میں کسانوں کو بااختیار بنانے کے لئے پرعزم ہیں تاکہ پائیدار زرعی ترقی کو فروغ دیا جاسکے۔ انشورنس اسکیم کا کامیاب نفاذ نہ صرف کسان برادری کے مالی، سماجی و معاشی حالات کو بہتر بنانے میں سنگ بنیاد ثابت ہوگا۔”
اسٹریٹجک اقدامات کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ہیڈ جناب وجاہت خواجہ نےاس موقع پرروشنیڈالتےکہا”یہ انشورنس پالیسیاں خاص طور پر زرعی کاروبار کے لئے ڈیزائن کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ سلام تکافل کاشتکاروں سے براہ راست ذاتی طور پر اور ایپ کے ذریعے بھی رابطے میں رہے گا تاکہ انہیں آگاہ رکھا جاسکے کہ ان کی پالیسیاںکیسے mature ہو رہی ہیں، موسم کی پیش گوئی اور موسم ی تبدیلی کی صورت میں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔”
وزیراعظم یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کے چیئرمین اور مہمان خصوصی رانا مشہود احمد خان نے پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینے اور دیہی آبادیوں کی ترقی کے لئے GRASP جیسے اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہ”پاکستان کی خوشحالی دیہی ایس ایم ایز سے ہے، آپ پاکستان میں معاشی استحکام لانے میں مدد کر رہے ہیں۔ GRASP جیسے projects انقلابی ہیں اور انہوں نے ایک مثال قائم کی ہے۔ حکومت پاکستان اور پرائم منسٹر یوتھ پروگرام اس کی توسیع اور رسائی میں تعاون کرے گا۔ ”
GRASP کا یہ اقدام سندھ اور بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی کے فوری چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہے، ان علاقوں میں جہاں شدید موسمی واقعات میں ریکارڈ 10 فیصد اضافے نے زرعی پیداوار اور دیہی معاش کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔ ایکسیس ٹو فنانس (اے ٹو ایف) جزو کے تحت اپنے جدید اور تزویراتی اقدامات کے ذریعے جی آر ای ایس نے مالیاتی اداروں کی مدد سے ان خطرات کو کم کرنے، ایس ایم ایز اور پاکستان میں مقامی برادریوں کے لیے لچک اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کا مقصد رکھا ہے۔
گریپ کے بارے میں
غربت کے خاتمے اور پائیدار جامع اقتصادی ترقی کے لیے یورپی یونین کے مالی تعاون سے شروع کیے جانے والے منصوبے گروتھ فار رورل ایڈوانسمنٹ اینڈ سسٹین ایبل پروگریس (GRASP) کو انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر (ITC) فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (اFAO)، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) اور پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (PPAF) کے اشتراک سے نافذکررہاہے۔

