شہر کراچی کو قائد کے فرمان کے تحت خصوصی حیثیت دی جائے: مولانا تنویرالحق تھانوی

کراچی: کراچی کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر قائد اعظم نے اپنی بصیرت سے کام لیتے ہوئے  23 جولائی 1948 کو بحیثیت گورنرجنرل ایک فرمان جاری کیا تھا ۔ جس کے تحت کراچی کو ایک خصوصی حیثیت عطا کی گئی تھی ۔اسی عہد کی تجدید کے لئے روٹری کلب کراچی انٹراسٹی اور فکرفردا کے زیراہتمام ایک یادگاری تقریب منعقد کی گئی۔ جس میں شہرکراچی کے مختلف شعبہ ہائے حیات کے نمائندوں نے شرکت کی جس میں کراچی کے مسائل و مشکلات و امن و امان کے حوالے سے تجاویزپیش کی گئیں۔

تقریب کی صدارت ممتاز عالم دین مولانا تنویرالحق تھانوی نے فرمائی ۔ جبکہ مہمان خصوصی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سابق چیئرمین جناب شبرزیدی اور مہمان اعزازی ماہراقتصادیات محترمہ شاہدہ وزارت تھیں ۔ اس موقع پرخطاب کرنے والوں میں معروف دانشورعلامہ محفوظ النبی خان ، روٹری کلب کراچی انٹرا سٹی کے صدر نسیم شاہ ایڈوکیٹ ، سیکریٹری محمد وسیم ، خواجہ سلمان ، فکرفردا کے حلیم غوری . لیڈی ڈاکٹر حمیرا رسول ۔ معروف ٹی وی آرٹسٹ فرح نا ز طارق ۔ روحانی اسکالر ۔مسز شاہ ۔ شبانہ سحر ۔ جاوید اقبال ۔ مسعود عالم ۔اوردیگرشخصیات شامل تھیں۔

اس موقع پر ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ شہرقائد ملک کا میگا سٹی اور واحد کاسمو پولیٹن ہے اور اس کا شمار ملک کے دس بڑے میٹروپولیس میں ہوتا ہے ۔ کراچی سندھ کا صوبائی دارلحکومت ہونے کے علاوہ ملک کا سب سے بڑا اقتصادی ، صنعتی اور تجارتی حب بھی ہے ۔ کراچی ملک کی اہم سمندری بندرگاہ بھی ہے جس کی تجارتی ، اسٹریٹیجک اور حساس دفاعی اہمیت بھی ہے ۔ کراچی عملا” ملک کی سب سے بڑی آبادی کا حامل شہر بھی ہے ۔ مگر آج تک اس کا سیاسی و بلدیاتی سیٹ اپ شہری ذمہ داریوں اورماحولیاتی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ اور اس شہر کے باسیوں کو بجلی ، گیس ، پانی ، اور سیوریج کے مسائل کا ہنوز سامنا ہے ۔ نیز یہ شہر جرائم کی بیخ کنی ، مہنگائی و بے روزگاری میں روز افزوں اضافہ اور دیگر شہری مسائل سے مسلسل دوچار ہے ۔ اس لئے 23 جولائی 1948 کے اعلان میں کراچی کی حیثیت کے تعین کے سلسلے میں قائد اعظم کے ویزن سے رہنمائی لینا ہی مناسب ترین اور آج کے حالات میں موزوں ترین ہے ۔ اور کراچی کی آبادی میں سینکڑوں گنا اضافہ اور شہر کے مسائل محض تمام تر صوبائی اختیارات 1948 کے فرمان کے ساتھ اس شہر کو میگا اسٹہٹس دیے جانے سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں