کراچی: واٹرکارپوریشن نے رٹائرڈ ملازمین کو بقایاجات کی ادائگی کیلے رلا دیا، عوامی خدمت کیلے جوانی دینے والے آج رقم کی وصولی کیلے ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سے واٹر کارپوریشن بن جانے کے بعد ادارے کے ہیڈ آفس کو تو چار چاند لگ گئے مگر ملازمین کا حال پہلے سے بھی بدتر ہونے لگا۔
رٹائرڈ ہونے کے بعد رقم کی وصولی کیلے گلزا مسیح بالاافسران کے آفیسز کے باہر اپنی رقم کے بجائے آکسیجن لگائے سانس گن گن پر لینے پے مجبور ہے۔
گلزا مسیح نے بتایا کہ جس ادارے میں جوانی دی اس ادارے میں یکم جنوری 2023 سے رٹائرڈ ہونے کے بعد چکر لگارہا ہوں مگر ادائگی نیں ہورہی، لگتا ہے کہ زندگی سے بھی رٹائرڈ ہوجاؤنگا۔
ان کا کہنا تھا کہ سانس کی تکلیف میں مبتلا ہوں، کبھی کہتے ہیں کے نیچے جاؤ اور کبھی کہتے ہیں کو اوپر جاؤ،پورا دن لگجاتا اس لیئے آکسیجن سلینڈر لیکر آتاہوں۔
گلرزا مسیح کا کہنا تھا کہ افسران روزانہ بلاتے ہیں کبھی ملتے ہیں تو کبھی ملتے بھی نہیں،انہوں نے چیئرمین اور سی ای اور واٹرکارپوریشن سے رقم ادائگی کی اپیل بھی کی۔

