
چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے دیدی۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے بھٹو صدارتی ریفرنس سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کے دوران احمد رضا قصوری، پیپلز پارٹی کے وکلا اور عدالتی معاونین کو سننے کے بعد گزشتہ روز رائے محفوظ کر لی تھی۔ چیف جسٹس پاکستان نے بھٹو صدارتی ریفرنس پر رائے سناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے اس معاملے پرمتفق ہے، ہم ججزپابند ہیں کہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔
چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا جب تک غلطیاں تسلیم نہ کریں خود کودرست نہیں کر سکتے، ریفرنس میں 5 سوالات اٹھائے گئے ہیں، ذوالفقارعلی بھٹو کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا، سپریم کورٹ کی رائے متفقہ ہوگی، بھٹو کے ٹرائل میں بنیادی حق پر عمل نہیں کیا گیا۔ عدلیہ کا کام انصاف کی فراہمی ہے، تاریخ میں ایسے متعدد مقدمات ہیں جن میں درست فیصلے نہیں ہوئے، ماضی کی غلطیوں کے ازالے کے بغیر درست سمت میں نہیں جاسکتے، جس سوال پر معاونت نہیں ملی اس کا جواب نہیں دے سکتے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے صدارتی ریفرنس پر رائے سنائے جانے کے وقت چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی عدالت میں موجود تھے اور رائے سنتے وقت بلاول بھٹو زرداری آبدیدہ بھی ہو گئے۔
