
اسلام آباد: گزشتہ روز جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے نوٹس پر تفصیلی جواب بھی جمع کروایا تھا جس میں انہوں نے خود پر عائد الزامات کی تردید کردی تھی۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے تفصیلی جواب میں کہا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل جج کے خلاف معلومات لے سکتی ہے لیکن کونسل جج کے خلاف کسی کی شکایت پرکارروائی نہیں کرسکتی، سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری احکامات رولزکی توہین کے مترادف ہیں۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور مس کنڈکٹ کی کارروائی جاری تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔
