
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے تاحیات نا اہلی کیس کا فیصلہ 5 جنوری کو محفوظ کیاگیا تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ پورا پاکستان 5 سال نااہلی کے مدت کے قانون سے خوش ہے/۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 5جینٹلمین کی دانش 326 کی پارلیمان پر کیسے غالب آ سکتی ہے، پارلیمنٹ کے فیصلے کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ نااہلی کی سزا تاحیات ہوگی
جسٹس منصور نے کہا قانون آچکا ہے اور نااہلی 5 سال کی ہوچکی تو تاحیات والی بات کیسے قائم رہےگی؟
اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں آئین کی تشریح غلط کی۔
