ہمارا مقصدصرف یہ ہی ہے کہ عوام کو حقوق ملیں،آصف زرداری

لاڑکانہ، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیامینٹرین کے صدر و سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے عوام کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ 8 فروری کے الیکشن کے مشور کے تحت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جو وعدے کیے ہیں، وہ پورے کرکے دکھائیں گے۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ زرداری نے زبان دی اور مکر گیا۔ الحمداللہ، ہم نے جو وعدے کیے ہیں، نبھائے ہیں، پاکستان غریب نہیں بلکہ وسائل سے مالا مال ملک ہے، اگر غریب ہے تو اسلام آباد میں بیٹھے افراد کی سوچ غریب ہے۔

میڈیا سیل بلاول ہاوَس کراچی کی جانب سے جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق، گڑھی خدابخش میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے 16 ویں یوم شہادت کے پر منعقد تاریخی جلسہ عام کو خطاب کرتے ہوئے، سابقِ صدر مملکت نے کہا کہ مسئلہ کوئٹہ، حیدرآباد، کراچی، لاہور، یا پشاور میں نہیں ہے۔ مسئلہ اسلام آباد میں ہے۔

آصف علی زرداری  نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی سوچ محدود ہے۔ "ان کو نظر نہیں آتا کہ غریب کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، بھوکھا کیسے سوتا ہے؟ ان کو نظر نہیں آتا جب تن پر کپڑے نہیں ہوتے؟” انہوں نے کہا کہ غریبوں کو درپیش مشکلاتیں سیاستدانوں کو نظر آتی ہیں۔ "کیونکہ ہمارے کارکنان ہمیں پکڑتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کرو، وہ کرو۔ ان کے ساتھ ہم نے وعدے کیئے ہوتے ہیں۔”

صدر آصف علی زرادری نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ وعدوں کی پاسداری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ بھٹو صاحب کے مشن کو زندہ اور بی بی صاحبہ کی شمع کو جلائے رکھا۔ "میں نے اپنے دور صدارت میں جتنے بھی منصوبوں کا افتتاح کیا، وہ اپنے نہیں بلکہ بی بی صاحبہ کے نام سے کیے۔ کیونکہ یہ ان کی طاقت تھی، ان کی سوچ، ان کے لوگ اور ان کے ووٹ تھے، جنہوں نے مجھے صدر بنایا۔”

انہوں نے کہا کہ میں آج تک پی پی پی کو سنبھالتا آ رہا ہوں، یہ میرے پاس بی بی شہید کی امانت ہے۔ انہوں نے عوام و کارکنان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور خاطر جمع رکھیں۔ "آپ تھوڑا صبر کریں، تھوڑا لحاظ کریں۔ ہم پاکستان کو بنائیں گے۔ اس دنیا سے جانے سے پہلے ہم پاکستان کو بنائیں گے۔ اگر ایسا کریں گے تو آنے والی نسلیں ہمیں یاد  کریں گی۔

صدر آصف علی زرادری نے کہا کہ آج صرف قائدِ عوام اور شہید بی بی کو یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ ان کی سوچ کمال کی تھی۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو شہادت عطا نہیں کرتا۔ شہادت ان کو نصیب ہوتی ہے، جنہوں نے انسانذات کی خدمت کی ہو۔” ہمارا مقصد صرف یہ ہے، کہ آپ کو اور غریبوں کو حقوق ملیں۔ "لوگوں کو پانی، اناج ملے۔ لائیننگ ہو اور ڈیم بنیں۔ تھر سرسبز ہو، سارا بلوچستان اور گلگت بلتستان کو سیراب کرسکیں۔  گلگت سے ٹریڈ شرع کرسکیں۔ یہ ساری باتیں ہمارے منشور میں شامل ہوں گے۔ اگلی بار ہم یہ سب کام کرکے دکھائیں گے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں