
اسلام آباد: سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پھانسی کیس میں صدارتی ریفرنس پر 11 سال بعد پہلی سماعت براہ راست نشر کی گئی
پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کمرہ عدالت پہنچ گئے
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی جس میں لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس امین الدین شامل تھے۔
جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی بنچ کا حصہ رہیں، رجسٹرار سپریم کورٹ نے کیس کے فریقین کو نوٹس جاری کر رکھا ہے
چیف جسٹس نے فاروق نائیک سے مکالمہ کیا کہ آپ کی درخواست سے پہلےہم نے لائیو نشریات کا فیصلہ کر لیا تھا، ہرقانونی وارث کا حق ہے کہ اسے سنا جائے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے سوال کیا کہ یہ صدارتی ریفرنس ہے توکیا حکومت اس کو اب بھی چلانا چاہتی ہے؟
اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے ہدایات ہیں کہ صدارتی ریفرنس کو حکومت چلانا چاہتی ہے، ریفرنس 15 صفحات پر مشتمل ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ صدارتی ریفرنس میں صدر صاحب ہم سے کیا چاہتے ہیں، کون سے صدر نے یہ ریفرنس فائل کیا ہے؟
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آصف زرداری نے بطور صدر یہ ریفرنس بھجوایا تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی صدر نے صدارتی ریفرنس واپس نہیں لیا تو یہ اب بھی عدالت کے اختیار میں ہے۔
دوران سماعت جسٹس منصورنے ریمارکس دیئے کہ ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس، فیصلہ برا تھا توبھی سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے جسے بدلا نہیں جاسکتا۔
