
اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزارت داخلہ میں” شدیوار شہداء” شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی تصویر لگانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے مشکور ہیں کہ انہوں یہ قدم اٹھایا، ملک کے وہ شہداءجنہیں دہشتگردوں نے نشانہ بنایا ان میں ہمارے سیاستدان، پولیس ، وکلاء، جج حضرات اور آرمی کے جوان شامل ہیں جنہوںنے یہ عظیم قربانی ملک کی خاطر دی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیوں کے نتیجے میں ملک میں امن قائم ہوا تھا اور دہشتگردی ملک سے ختم ہوگئی تھی، بدقسمتی سے ایک ایسا فیصلہ آیا جس نے شہداءکی قربانیوں پر پانی پھیر دیا۔ جب افغانستان میں حکومت تبدیل ہوئی تو ہمارے ملک میں ایک ایسا فیصلہ کیا گیا جس کے لئے نہ تو پارلیمنٹ سے اجازت لی گئی اور نہ ہی عوام سے پوچھا گیا، اس فیصلے میں انہی دہشتگردوں کو رہا کر دیا گیا جنہوں نے ہمارے عوام ، آرمی اور پولیس کو شہید کیا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو لوگ یہ فیصلہ کرنے میں ملوث تھے ان کی تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ ان کی نیت کا پتہ چل سکے۔اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ مستقبل میں ایسے فیصلے نہ لئے جاسکیں۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے جو کہ اتنا بڑا فیصلہ نہ تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی عوام کو۔ تاکہ ایسے شدید مضمرات والے فیصلے مستقبل میں دوبار نہ کیے جا سکے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک کی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ جو لوگ ان سگین جرائم میں ملوث ہیں انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ اس سلسلے میں ہم افغانستان سے مستقل رابطے میں رہیں گے جیسا کہ ہم نے اتحادی حکومت میں کیا تھا۔
انکا کہنا تھا کہ ایک دفعہ پھر یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ بھارت مستقل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کرنے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ اب دنیا کی طاقتوں کو یہ دیکھنا پڑے گا کہ وہ بھارت کی حمایت پر نظرثانی کریں جبکہ بھارت مستقل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھارتی پارلیمنٹ اور عدلیہ بین الاقوامی معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تبدیلی نہیں کر سکتی، بھارت چاہیے کتنی مرتبہ بھی اور جتنی بھی کوشش کرے اور دعویٰ کرے کہ کشمیر اس کا حصہ ہے یہ نہیں ہو سکتا کیوںکہ جہاں تک بین الاقوامی قوانین ہیں کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جسے قانون اور قراردادوں کے مطابق حل ہونا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ جب بینظیر بھٹو شہید زندہ تھیں تو وہ پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن تھیں اور مخدوم امین فہیم پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ تھے۔ وہ اسی روایت پر عمل کر رہے ہیں اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین ہیں، شہید ذوالفقار علی بھٹو کیس کے صدارتی ریفرنس کے متعلق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مشکور ہیں کہ وہ اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 2018ءمیں انہوں نے ایک درخواست دی تھی کہ اس کیس کو سنا جائے، ایک اور درخواست دی ہے کہ اس کیس کو لائیو دکھایا جائے جیسا کہ کچھ دوسرے کیسوں میں بھی ہوا ہے کیونکہ ماضی میں بہت ضروری کیسوں کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔ جو لوگ اس جرم میں شریک تھے انہیں قوم کے سامنے بے نقاب کرنا چاہیے کیونکہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔
