
اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح کیس کی سماعت ہوئی جس دوراں چاروں گواہان کے بیانات قلمبند کرلیے گئے۔
گھریلو ملازم محمد لطیف نے اپنا بیان درخواست گزار وکیل رضوان عباسی کی موجودگی میں قلمبند کروایا۔
بیان قلمبند کراتے ہوئے محمد لطیف نے کہا کہ عمران خان بشریٰ بی بی کے گھر آتے تھے اور وہ بشریٰ بی بی کے ساتھ کمرے میں چلے جاتے تھے
محمد لطیف نے بتایا کہ میں بشریٰ بی بی کے کمرے میں جاتا تھا تو سابق چیئرمین پی ٹی آئی مجھے برا بھلا کہتے تھے، مجھے دونوں کہتے تھے کمرے سے باہر چلے جاؤ۔
انہوں نے کہا کہ خاورفرید مانیکا کے ساتھ گزشتہ35 سال سے گھریلو ملازم ہوں، پرانا ملازم ہوں اس لیے ان کا مجھ سے کسی قسم کا پردہ نہیں ہے، ان کے بچے بھی میرے ہاتھوں میں پلے۔
گواہ نے کہا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے خاورمانیکاکے بنی گالہ گھر میں 2015 میں آنا جاناشروع کیا، 2015 میں کبھی کبھار، 2016-17 میں خاور مانیکا کے گھرآنا جانا زیادہ ہوگیا تھا۔
سول جج قدرت اللّٰہ نے گواہ سے استفسار کیا کہ کیا سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی آپ کو کمرے میں ساتھ بٹھاتے تھے؟جس پر گواہ محمد لطیف نے کہا کہ مجھے کمرے میں ساتھ نہیں بٹھاتے تھے، مجھے خاور مانیکا کہتے تھے جا کر انہیں دیکھو۔
عدالت نے سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
