
دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ نیب ترامیم کیس کا اقلیتی فیصلہ بھی آچکا ہے، اپیل میں وفاقی حکومت نے ایک نکتہ پریکٹس اینڈ پروسیجرقانون کا اٹھایا ہے
چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ اس نکتے کی پیروی کرنا چاہتے ہیں؟ اگرآپ کی یہ دلیل مان لی گئی تونیب ترامیم کے خلاف درخواستیں زیرالتوا تصور ہوں گی اور زیرالتوا درخواست پر ازسرنو 5 رکنی لارجر بینچ فیصلہ کرے گا۔
اٹارنی جنرل نے اپیلوں پر پریکٹس اینڈ پروسیجرقانون لاگو ہونے کی حمایت کردی
چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی تک پریکٹس اینڈ پروسیجرکیس کا تفصیلی فیصلہ نہیں آیا، کیا مناسب نہیں ہوگا کہ پہلے تفصیلی فیصلے کا انتظارکرلیا جائے؟
فاروق ایچ نائیک نے نیب ترامیم کیس کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نیب ترامیم کیس کے فیصلے کو معطل نہیں کریں گے، صرف احتساب عدالتوں کو حتمی فیصلہ کرنے سے روکیں گے،نیب ترامیم کےخلاف اپیل کوپریکٹس اینڈ پروسیجرکے تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد مقرر کریں گے
سپریم کورٹ نے نیب ترامیم انٹراکورٹ اپیل کے حتمی فیصلے تک ٹرائل کورٹس کو نیب ریفرنسزکے حتمی فیصلے سے روک دیا اور سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔
