
ڈی آئی جی ٹریفک اور ڈی آئی جی ریلویز رہنے والے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) شارق جمال خان کے قتل کا مقدمہ پولیس نے درج کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول ڈی آئی جی کو زہر دیا گیا اور ہلاکت کو طبعی موت ظاہر کر کے ڈرامہ کیا گیا
مقدمہ 3 ماہ بعد مقتول کی بیٹی حانیہ شارق خان کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں 7نامزد ملزمان شامل ہیں جن میں ایک سرکاری ملازمہ اور مقتول کے دو ملازم بھی شامل ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق ڈی آئی جی شارق جمال کی ہلاکت کے وقت تجوری کھلی ہوئی تھی، 8 کروڑ مالیت کے ڈالرز اور 5 لاکھ کیش غائب تھا۔
شارق جمال نے متعدد منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی اور تجوری سے کاغذات بھی غائب تھے۔
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ ڈی آئی جی شارق جمال کے قتل کی پہلے بھی کوششیں ہو چکی تھی۔
