
اسلام آباد: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس پر سماعت کے باربار سوال کرنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کو ٹوک دیا اور کہا کہ اپنے سوال روک کر رکھیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں فل کورٹ بنچ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف دائر 9 درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے
ایم کیو ایم کے فیصل صدیقی نے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں فریق نہیں ہوں، نوٹس پر عدالت میں پیش ہوا۔
فیصل صدیقی نے کہا کہ ایک بار کاکڑ کیس کا حوالہ دوں گا، اور دوسرا سپریم کورٹ ریویو ایکٹ سے متعلق فیصلے کا حوالہ دوں گا، ان فیصلوں کے کچھ حصے موجودہ کیس سے تعلق رکھتے ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ سوال یہ تھا کہ کیا ’سبجیکٹ ٹو لا‘ کا مطلب ایکٹ آف پارلیمنٹ ہے؟
جسٹس اعجازالاحسن نے وکیل فیصل صدیقی سے کہا کہ میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے کہا کہ آپ ہر سوال کا جواب نہ دیں، آپ صرف اپنے دلائل پر توجہ دیں۔
چیف جسٹس پاکستان کے ریمارکس پر وکیل فیصل صدیقی ہنسے تو چیف جسٹس نے وکیل کے مسکرانے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہنسنے کی کوئی بات نہیں
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کا کہنا تھا کہ 4 سماعتوں سے کیس سن رہے ہیں، کئی کیسز التوا کا شکار ہیں، میری اپنے ساتھی ججز سے درخواست ہے کہ اپنے سوالات روک کر رکھیں، کوئی سوال کرنا چاہتا ہے تو وکیل کی دلیل پوری تو ہونے دیں۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز میں لاء کی تعریف لکھی ہے، رولز بناتے وقت اس بات پر کوئی ابہام نہیں تھا کہ لاء کا کیا مطلب ہے۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی حمایت کر دی اور ایکٹ کیخلاف درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ایکٹ کیخلاف درخواستیں میرٹ پر خارج کی جائیں۔
دوران سماعت بار بار سوال پوچھنے پر چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس منیب اختر کو ٹوک دیا، جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ میں بھی اس عدالت کا ایک جج ہو، سوال پوچھنا ایک جج کا حق ہے۔
چیف جسٹس نے جسٹس منیب اختر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے سوال ضرور پوچھے لیکن دلائل مکمل ہونے کے بعد، اگر ہم نے پہلے ہی اپنے ذہن بنا لئے ہیں تو ہم فیصلے میں اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔
