آئین اور قانون چیف جسٹس کی خواہشات کے تابع نہیں، قاضی فائز عیسیٰ

اسلام آباد: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس میں چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا ہے کہ آئین اور قانون چیف جسٹس کی خواہشات کے تابع نہیں ہیں اگر ایسا ہوا تو یہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے تباہ کن ہوگا۔

یہ بات انہوں ںے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس میں کہی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت سپریم کورٹ میں پریکٹس پروسیجر کیس میں اضافی دستاویز جمع کرائی گئیں۔

درخواست گزار امیر خان کی جانب سے وکیل خواجہ طارق رحیم نے جمع کرایا۔ متفرق درخواست میں سپریم کورٹ سے اضافی دستاویز کو منظور کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ میں جمیعت علمائے اسلام ف نے بھی تحریری جواب جمع کر رکھا ہے جس میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستیں مسترد کی جائیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں