ایاز لطیف نے قاسم آباد میں کرکٹ کلب اکیڈمی کا افتتاح کردیا

حیدرآباد: قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نے قاسم آباد حیدرآباد میں کرکٹ کلب اکیڈمی کا افتتاح کرتے کہا کے سندھ میں نوجوانوں کے لیئے کھیلوں کے میدان نہیں ، گلی، صحتمند دماغ اور سوچ کے لیئے کھیل ضروری ہے.

 کرکٹ، فٹبال، کراٹے اور دوسرے کھیلوں کی اکیڈمیاں کھولی جائیں ، قاسم آباد میں نبیلہ مہر اور کریم بخش کو کرکٹ اکیڈمی کھولنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں

ایاز لطیف پلیجو نے کہا کے تمام سندھ کے والدین اپنے بچوں کو بولتے ہیں کے پیسے کماؤ، شادی کرو، اور بچے پیدا کرو، دنیا میں لوگ کیریئر ، گھومنے، کھیل اور دوسرے زبردست مواقع حاصل کرکے انجوائے کرتے ہیں، ہمارے یہاں مہنگائی کاعذاب ہے، شگر، ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی ، کینسر، کولیسٹرول، اور دیگر بیماریاں ہیں، قبائلی دہشتگردی ہے، کرپٹ حکمرانوں نے لوگوں کی زندگی جہنم بنادی ہے.

انہوں نے کہا کہ انصاف نہیں، صرف دونمبری ہے، میرٹ نہیں، نوجوانوں کے لیئے تعلیم سمیت کسی بھی میدان میں معیاری مواقع نہیں، حکومت مکمل لاتعلق بنی ہوئی ہے، حیدرآباد میں کرکٹ اکیڈمی کی ضرورت تھی ، میں نے تجویز دی ہے کے باکسنگ ، فٹبال اور کراٹے بھی سکھایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے نوجوانوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، انکو موقع فراہم نہیں کیا جا رہا، نوجوان خود ہمت کریں ، اگر وہ کھیل نہیں کھیلیں گے تو وہ مقابلہ کیسے کریں گے، نوجوان کشتیاں چلانا سیکھیں ، تیرنا سیکھیں ، دریا اور سمندر کے کنارے پیدل چلیں ، ہاکی ٹینس اور دیگر کھیلوں میں مقابلہ کریں۔

ایاز لطیف پلیجو نے کہا کے سندھ کے نوجوان باصلاحیت ہیں، انکو اسپورٹس، کرکٹ، ہاکی فٹبال، اسکواش اور ٹینس میں موقع ملنا چاہئے ، گراؤنڈس، کوچ اور دیگر سہولتیں ملیں تو وہ شاندار کارکردگی دکھاسکتے ہیں، اسپورٹس میں سندھ کے نوجوانوں میں بڑا ٹیلنٹ موجود ہے، سندھ کے نوجوانوں کے لیئے آگے بڑھنے کی تمام زیادہ گنجائش ہے مگر انکو موقع نہیں دیا جاتا۔

 سندھ کے نوجوانوں کو انٹرنیشنل اسپورٹس کرکٹ فٹبال ، ہاکی ، سوئمنگ اسکواش اور دیگر کھیلوں اور کلچر میں مواقع دیئے جائیں تو سندھ کے نوجوان کمال کرسکتے ہیں۔

قومی عوامی تحریک کے سربراہ کا کہان تھا کہ جو کھیلوں کے وفاقی بورڈز ہیں وہ سندھ کے نوجوانوں سے فرق رکھتے ہیں، سندھ کے نوجوانوں کو کھیلوں لانے کے لیئے توجو ہی نہیں دی جاتی موجودہ حالات میں سندھ کے نوجوانوں کو نہ ہونے کے برابر کرکٹ میں شامل کیا گیا ہے مگر وہ کافی نہیں مزید مواقع فراہم کئیے جائیں، کلچر اور کھیلوں کے پروگرام ترتیب دے کر سندھ کے نوجوانوں میں جزبا پیدا کر کے انکو آگے بڑھنے کے مواقع دیئے جائیں اور پریکٹس کرائی جائے۔

ایاز لطیف پلیجو نے کہا کے لاڑکانہ ، شکارپور ، جیکب آباد ، کندہ کوٹ، نگرپارکر، عمرکوٹ ، مٹھی، بدین میرپورخاص ، سانگھڑ ،ٹھٹہ ،سجاول سمیت سندھ کے ہر ٹاؤن کمیٹی والے شہروں میں کرکٹ ،فٹبال،ہاکی اور دیگر کھیلوں کی اکیڈمیاں کھولی جائیں۔

اس کے لیئے ہم سب کو بڑی جدوجہد کرنی ہے.مظہر راہوجو ، ایڈووکیٹ ایاز تنیو،  ایڈووکیٹ افضل گجر،ایڈووکیٹ سجاد چانڈیو ، ایڈووکیٹ اعجاز بڈہانی ،الطاف خاصخیلی، نصرت خاصخیلی اور دیگر موجود تھے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں