کراچی سوشل فورم کا احتجاج،کارونجھر کو محفوظ بنانے کا مطالبہ

کراچی سوشل فورم کا احتجاج، کارونجھر کو محفوظ بنانے کا مطالبہ

کراچی(رپورٹ: شاہد عباسی) سندھ حکومت کی جانب سے سندھ کے تاریخی مقام کارونجہر کو کاٹنے کے فیصلے کے خلاف کراچی سوشل فورم کے زیراہتمام کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں احتجاجی بینرز اٹھائے ھئے تھے جن پر کارونجہر کی نیلامی نامنظور کے نعرے درج تھے۔

اس موقع پر کراچی سوشل فورم (کے ایس ایف) کے چیئرمین محبوب عباسی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے کارونجہر کو نیلام کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرکے پھر معطل کرنا ایک چال ہے، کیونکہ کارونجھر ایک پہاڑ ہے جس کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے یہ سندھیوں کے لیے طورسینا اور کوہ نور کی طرح مقدس ہے

انہون نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید  مراد علی شاہ سے گزارش ہے کہ سندھ اسمبلی میں ایسا بل پاس کروایا جائے جو اس تاریخی و تفریحی مقام کو  تحفظ فراہم کر سکے۔

الٰاہی بخش بکک کا کہنا تھا کہ کارونجھر کو ٹینڈر کے ذریعے کاٹنے کا فیصلہ قوم اور سرزمین کے خلاف اقدام ہے جسے سندھ کے سات کروڑ عوام کبھی قبول نہیں کریں گے۔

ایڈووکیٹ امان اللہ شیخ، پروفیسر اعجاز قریشی، عنایت کھٹیان، پنہل لاڑک و دیگر کا کہنا تھا کہ آئے روز سندھ کو فروخت کرنے کے منصوبے اور فیصلے حکمرانوں کی تباہی کا باعث بنیں گے، لہٰذا ہوش کے ناخن لیے جائیں کارونجہر سندھ کی جان ہے۔ عرفان عالمانی، فرحان سومرو، نواز سانگی، ذوالفقار سیال، محمد عیسیٰ کاتیار، معشوق منگی، فیاض عباسی، اشفاق عباسی، منصور عباسی، شاہد راجپر نے مطالبہ کیا کہ کارونجھر کو قانونسازی سے تحفظ دیا جائے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں