
سیما کے بھارت پہنچے پر سچن کے گھروالے ناخوش تھے، میڈیا خاموش ہونے کے بعد اسے پتا چلے گا کہ اس نے زندگی کی عظیم غلطی کی، بھارت اپنے قانون پرعمل کریگا تو پھر بھی سیما کو سات سال قید یا ڈیپورٹ کرے گا، سیما جکھرانی جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہے اور وہ ذھنی توازن کھوچکی ہے، سرکار سے بچے واپس دلانے کی بھی اپیل کردی۔
کلک بریکنگ 24 سے بات کرتے ہوئے سیما جکھرانی کے شوہر غلام حیدر جکھرانی کا کہنا تھا کہ سیما کے والدین رند قبیلے کے ہیں، اسے کبھی بھی کسی چیز کی کمی نہیں تھی، گھر میں ھر چیز اس کے کہنے پر ہوتی تھی، میرے والدین میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں ہوتا تھا۔
غلام حیدر نے بتایا کہ میری پہلی شادی ‘مور زادی’ سے ہوئی تھی جس سے دو بچے بھی ہیں، سیما سے محبت ہوئی تو اس سے شادی کی، چند ماہ بعد ‘مور زادی’ کو طلاق دی، یہ سب سیما کے لیے ہی کیا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں غلام حیدر جکھرانی کا کہنا تھا کہ سیما نے کبھی بھی محسوس ہونے نہیں دیا کہ وہ کسی اور سی بات کرتی ہیں۔ 9 مئی کے بعد رابطہ منقطہ ہوا، تلاش کی مگر پتہ نہیں چل سکا، تین دن بعد پولیس اسٹیشن پر این سی کروائی، مسلسل تلاش کے باوجود پتا نہیں چلا۔
ان کا کہنا تھا کہ دیڈھ ماہ بعد پتا چلا کہ سیما بھارت چلی گئی ہیں، جب پہلی بار سیما اور بچوں کو بھارتی پولیس کے پاس دیکھا تو زمین پاؤں سے نکل گئی تھی، خود کو سنبھالہ اور فون آنہ شروع ہوگئے۔
سیما کے شوہر غلام حیدر جکھرانی کا کہنا تھا کہ میں ہر ماہ سعودی عرب سے 70 ہزار روپے سیما کو بھیج تا تھا، جس سچن کی وہ بات کرتی ہیں پتا چلاہے کہ وہ ایک دکان پر ملازم ہے اور چھیے ہزار روپے اس کی تنخواہ ہے اور اس کا باپ گھاس کاٹ کر گھر کا گذارا کرتے ہیں۔

غلام حیدر کا کہنا تھا کہ پتا چلا کہ جب سیما پہلی بار سچن کے گھر پہنچی تو اس کے چچہ اس پر بہت ناراض تھے، اسے کہا کے تم اپنا پیٹ نہیں پال سکتے اور خاتون کو چار بچوں کے ساتھ لے کر آگے ہو، تم انہیں کیسے کھلاپلا سکو گے؟ لیکن جب معاملا میڈیا پر آیا تو سیما سارے بھارت کی بھابھی بن گئی لیکن یہ کھیل بھی چنددنوں کے سوائے کچھ نہیں۔
غلام حیدر جکھرانی کا کہنا تھا کہ بھارت سے مسلسل کالس آتی ہیں، ایک بھارتی وکیل نے بتایا کہ بھارت میں غیر قانونی داخلہ ہونے پر سات سال اور قید ڈیپورٹ کرنا ہوتا ہے، مجھے اپنے بچوں کی بہت فکر ہے، میں چاہتاہوں کے میرے بچی مجھے ملیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے قبائلی علاقوں سے جو باتیں ہوتی ہیں ان سے میرا کوئی تعلق نہیں، میں نے کسی کو نہیں کہا اور نہ ہی کسی سے مدد مانگی ہے۔ میں صرف پاکستان حکومت سے اپیل کرتا ہون کے میری مدد کرے اور مجھے اپنے بچے دلائے۔
