spot_img

مقررہ مدت میں تعمیرات مکمل نہ کرنے والے بلڈرز کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان

مقررہ مدت میں تعمیرات مکمل نہ کرنے والے بلڈرز کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان

کراچی: شہریوں کے مفادات کے تحفظ اور تعمیراتی شعبے میں شفافیت و نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے مقررہ مدت میں منصوبے مکمل نہ کرنے والے بلڈرز کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

صوبائی وزیر بلدیات و ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ سید ناصر حسین شاہ نے واضح کیا ہے کہ جو بلڈر مقرر وقت پر منصوبہ مکمل کر کے خریداروں کو مکانات/فلیٹس حوالے نہیں کریں گے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ ایسے بلڈرز کا لائسنس معطل کر کے انہیں ڈی لسٹ/بلیک لسٹ کیا جائے گا اور مستقبل میں انہیں کسی نئے منصوبے کی منظوری بھی نہیں دی جائے گی۔ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ عوام کی زندگی بھر کی جمع پونجی محفوظ رہے اور ہاؤسنگ سیکٹر میں اعتماد بحال ہو۔

سید ناصر حسین شاہ نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو  کو ہدایت کی ہے کہ ایسے تمام تعمیراتی منصوبوں کی مکمل تفصیلات فوری طور پر فراہم کی جائیں جن کی تعمیر منظور شدہ مدت گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکی تاکہ تاخیر کا شکار منصوبوں کی نشاندہی کر کے ذمہ دار بلڈرز کے خلاف ضابطے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت کو مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ بعض بلڈرز غیر ضروری تاخیر کے ذریعے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں، جس کے باعث خریداروں کو کرائے، اضافی اخراجات اور مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صارفین کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تعمیراتی شعبے میں نظم و ضبط قائم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ضروری ہے جو غیر ذمہ داری یا بدنیتی کے باعث منصوبوں کو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں اور عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

اس ضمن میں صوبائی وزیر نے آباد (ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز) پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی صفوں میں موجود ایسے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کرے اور قانون پر عملدرآمد میں تعاون کرے تاکہ ذمہ دار ڈویلپرز کی حوصلہ افزائی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی حوصلہ شکنی ہو۔

انہونے مزید کہا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف تاخیر کا شکار منصوبوں میں کمی آئے گی بلکہ ریگولیٹری نگرانی بھی مؤثر ہوگی۔ صوبائی وزیر نے عوام کو بھی مشورہ دیا کہ کسی بھی تعمیراتی منصوبے میں سرمایہ کاری سے قبل اس کی قانونی حیثیت، منظوری اور دستاویزات کی تصدیق ضرور کریں اور مستند معلومات کے لیے ایس بی سی اے سے رجوع کریں، تاکہ غیر قانونی یا غیر مطابقت رکھنے والی تعمیرات کے خطرات سے بچا جا سکے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں