پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر افغانستان کے مشرقی علاقوں میں بڑا انٹیلی جنس بیسڈ فضائی آپریشن کرتے ہوئے شدت پسندوں کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں طالبان کمانڈر سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں جیٹ طیاروں نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر درست نشانہ لگایا.
زوردار دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں۔ کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے استعمال میں آنے والی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق پکتیکا کے بعد ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی فضائی کارروائی کی گئی، جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مبینہ تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
افغانستان کے مرغہ علاقے میں واقع بنوسی مدرسہ میں دھماکے سے 10 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
ننگرہار جلال آباد کے ضلع کامی میں بھی دو اہداف جیٹ طیاروں سے کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا لیے گئے ہیں جبکہ شاہینوں کی پروازیں بد ستور جاری ہیں۔
صوبہ پکتیکا کے علاقے بر مل میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر دھماکوں کے نتیجے میں کئی دہشت گروں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان کمانڈر اختر محمد پکتیا میں مارا گیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان کے مطابق جنگی طیاروں نے دہشت گردی کےجوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں خارجی دہشت گردوں، فتنہ الخوارج اور اس کے منسلک گروہوں، نیز سے وابستہ سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔
جنگی طیاروں نے فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا۔
