ہماری مسلح افواج  دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہے:شرجیل انعام میمن

ہماری مسلح افواج  دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہے:شرجیل انعام میمن

کراچی: سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ  چند دن پہلے  سندھ اسمبلی نے کامن ویلتھ کانفرنس کی میزبانی کی جس سے پوری دنیا میں پاکستان کے حوالے سے مثبت پیغام کیا، مائی کولاچی نمائش کا اہتمام کیا گیا، کراچی میں دیگر عالمی نمائشیں منعقد ہوئیں، جس سے پورے دنیا میں یہ پیغام گیا کہ پاکستان امن کا گہوارہ ہے،   حکومتِ سندھ نے سی پی اے کانفرنس کو نہایت کامیاب اور منظم انداز میں منعقد کیا، جس سے دنیا بھر میں مثبت پیغام گیا۔

سندھ اسمبلی میڈیا کارنر پر میڈیا سے گفتگو کرتے  ہوئے  انہوں نے کہا کہ سی پی اے کانفرنس کے بعد عالمی بینک کے صدر اور وفد نے مختلف شہروں کے دوروں کے بعد حکومتِ سندھ کے منصوبوں کی تعریف کی۔  حکومتِ سندھ دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے ہاؤسنگ منصوبے پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت 21 لاکھ گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں، جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ کراچی سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں بھی ترقیاتی منصوبے جاری ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ سندھ مستقبل میں بھی ایسے منصوبے شروع کرے گی جن سے عوام کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں۔

شرجیل انعام میمن نے اسلام آباد میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے بھارتی خفیہ اداروں اور طالبان کی معاونت سے معصوم اور نہتے لوگوں پر حملہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دشمن ممالک جو پاکستان کا سامنے سے مقابلہ نہیں کر سکتے اور جنہیں تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا، وہ پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ اس حملے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ دشمن کس حد تک گر سکتا ہے، جبکہ بھارتی فیک اکاؤنٹس کے ذریعے واقعے کو بنیاد بنا کر ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ تھا، جس کا حکومتِ پاکستان پہلے بھی منہ توڑ جواب دیتی آئی ہے اور آئندہ بھی دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت براہِ راست لڑنے کے بجائے بزدلوں کی طرح پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کر رہا ہے، تاہم ہماری مسلح افواج دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، اور تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے تاکہ دشمن کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ہم ایک قوم بن کر متحد ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم اور جماعتِ اسلامی کراچی میں مخالفت نہ کریں تو ان کی سیاست کیسے چلے گی، جبکہ باقی شہروں میں ایسے واقعات پر یہ خاموش رہتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے، تو کیا وہاں کے لوگ انسان نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں تنقید اور مخالفت نہ ہو تو بعض جماعتوں کی سیاست نہیں چلتی۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اتوار کو ہڑتال کے اعلان پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ   اتوار کو ویسے بھی کاروبار، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہتے ہیں، دکانیں اور دفاتر بند ہونے سے عوام کو ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر کسی کو خوش کرنا ہے تو کرتے رہیں۔

ایک اور سوال  کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی میں آگ لگنے کے 1055 واقعات پیش آئے جن پر ریسکیو اداروں اور 1122 نے قابو پایا، اور جہاں کہیں غلطیاں ہوئیں ان کا اعتراف کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دھرنوں سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ جن شہریوں کے حق کی بات کی جاتی ہے وہی زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سوشل میڈیا پر تنقید کرنا سب کا حق ہے، مگر یہ تنقید آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہونی چاہیے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں