کے ایم سی نے نیپا فلائی اوور کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والے بچے کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا ذمہ دار بی آر ٹی تعمیرات اور نجی اسٹور کی انتظامیہ کو قرار دیدیا۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے گلشن اقبال ٹاؤن میں نیپا فلائی اوور کے قریب نجی اسٹور کے سامنے بچے کا گٹر میں گرنے کے واقعے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ سیکرٹری محکمہ بلدیات کو بھجوا دی ہے۔
سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز عمران راجپوت نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ میئر کراچی کے حکم پر میونسپل سروسز نے بچے کی تلاش کا آپریشن شروع کیا، گلشن ٹاؤن کے لنک نالے سے بچے کی لاش برآمد ہوئی۔معائنے میں ثابت ہوا حادثے کی وجہ بی آر ٹی تعمیرات تھیں
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بی آر ٹی منصوبے کی کھدائی کے باعث نالے کے پورے نکاسی کے نظام شدید نقصان پہنچایا، عارضی دو فٹ کے کور لگا کر گٹروں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
کے ایم سی کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریڈ لائن منصوبے کی جانب سے ایک جگہ مین ہول کھلا رہنے سے سانحہ ہوا، یہ طریقہ کار اور غیر معیاری ڈھکن کبھی کے ایم سی نے استعمال نہیں کیے۔بی آر ٹی نے کام شروع کرنے سے پہلے کے ایم سی کو آگاہ نہیں کیا، کھدائی بی آر ٹی نے کی اور بعد میں صورتحال کو نظرانداز کیا، نجی اسٹور انتظامیہ اور بی آر ٹی کی مشترکہ وجہ سے بچہ گٹر میں گرا، افسران کی نگرانی میں کھدائی شدہ تمام حصے بھر دیئے گئے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں واقعے کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد وزیراعلیٰ نے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت کے بعد ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلشن اقبال کے اسسٹنٹ انجینئر راشد فیاض,کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ایگزیکٹو انجینئر وقار احمد، اسسٹنٹ کمشنرگلشن اقبال عامر علی شاہ اور مختیارکار گلشن اقبال سلمان فارسی کو بھی معطل کردیا۔
