سندھ کے مختلف شہروں میں "فیس لیس ای ٹکٹنگ” شروع کرنے کا اعلان
سندھ پولیس کی "فیس لیس ای ٹکٹنگ” صوبے کے دیگر شہروں میں بھی متعارف کرنے کی تیاری۔
سندھ پولیس کی "فیس لیس ای ٹکٹنگ” صوبے کے دیگر شہروں میں بھی متعارف کرنے کی تیاری۔ڈی آئی جیزٹریفک کراچی،آئی ٹی اور ڈویژنل ڈی آئی جیز کو ذمہ داریاں تفویض کردی گئیں۔
ڈی آئی جی آئی ٹی شہروں اور شاہراہوں پر نصب کیمروں،انکی ریکارڈنگ اینڈ اسٹوریج،انٹرنیٹ سہولیات اور دیگر تکنیکی وسائل کا جائزہ لیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک کراچی،TRACS سسٹم اور سہولت سینٹرز کے قیام سے متعلق ڈویژنل ڈی آئی جیز کو ضروری معلومات،ہدایات اور رہنمائی فراہم کریں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے کہا کہ کراچی میں پارکنگ لین کی خلاف ورزی کی روک تھام کے لئے زمینی و فضائی اسکیننگ کا آغاز کیا جارہا ہے۔”نوپارکنگ "پر موجود گاڑیوں کو بذریعہ اسکینرز اور ڈرونز ای ٹکٹ چالان جاری کیا جائے گا۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا کہ تمام ڈویژنل ڈی آئی جیز متعلقہ اضلاع میں سہولت سینٹرز حتمی طور پر تیار رکھیں اور متعلقہ عملے کی فوری تربیت کو یقینی بنائیں۔تیاریوں کا مکمل جائزہ لے کر فیس لیس ای ٹکٹنگ کا باقاعدہ آغاز کردیا جائے گا۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت فیس لیس ای ٹکنگ سسٹم کی کارکردگی اور دیگر شہروں تک اسے وسعت دینے سے متعلق جائزہ اجلاس۔
سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقدہ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز ویلفیئر، ٹریننگ،ڈی جی سیف سٹی اتھارٹی،ڈی آئی جیز،ہیڈکواٹرز،سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول،اسٹبلشمنٹ، ڈرائیونگ لائسنس سندھ،ٹریفک کراچی، آئی ٹی،فائنانس،ٹی اینڈٹی،ٹریننگ،ایڈمن کراچی،اے آئی جیزنے بالمشافہ جبکہ ڈویژنل ڈی آئی جیزنے زریعہ وڈیولنک شرکت کی۔
اجلاس کے شرکاء کو ڈی آئی جی ٹریفک نے تفصیلی بریفنگ دی۔
ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے کہا کہ کراچی میں ای چالان کے نفاذ کے بعد 23 ہزار سے زائد شہریوں نے سہولت سینٹرز کا وزٹ کیا ہے۔ای چالان کو چیلنج کرنیوالے شہریوں کی تعداد 200 سے بھی کم ہے۔
تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک جاری ہونے والے 90 فیصد ای چالان معاف کردیئے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 4 ہزار چالان کی مد میں 2,کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا جاچکاہے۔ اگلے مرحلے میں پارکنگ لائنز کی خلاف ورزی کے انسداد کے لئے زمینی وفضائی نگرانی کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔ٹریفک پولیس کی کاروں پر نصب کیمرے / اسکینرز اور ڈرون سے "نوپارکنگ”پر کھڑی گاڑیوں کوای ٹکٹ جاری کریں گے۔ صوبے کے دیگراضلاع میں فیس لیس ای ٹکٹنگ کے اجراء کے لئے چند آلات،افسران کی فوری تربیت،سہولت سینٹرز کا تعین اور عملہ کی تعیناتی جیسے اقدامات کرنے ہیں۔ ڈویژنل ڈی آئی جیز نے اپنے اپنے اضلاع میں نصب کیمروں سے متعلق رپورٹ جمع کروادی ہے۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا کہ کراچی میں فیس لیس ای ٹکٹنگ کے نفاذ کے بعد عوام کی جانب سے بھرپور پزیرائی موصول ہوئی ہے۔کیمروں کی تنصیب سے نہ صرف ٹریفک قوانین کی پاسداری کی جارہی ہے بلکہ سفرکے دوران غیر ضروری تاخیر کی شکایت بھی انتہائی کم ہو گئی ہے۔اب اس جدید ٹیکنالوجی کے ثمرات صوبے کے دیگر شہروں تک بھی منتقل کرنے ہیں۔ نئے موٹروہیکل قانون کے تحت تمام اضلاع میں سہولت سینٹرز قائم کرنے ہیں۔ جہاں شہری ٹریفک وائیلیشن چالان سے متعلق اپنی شکایات کے لیے رجوع کرسکیں گے۔ڈی آئی جی آئی ٹی صوبے کے مختلف اضلاع میں نصب کیمروں کے معیار،ان کی ریکارڈنگ و اسٹوریج،انٹرنیٹ سہولیات اور دیگر تکنیکی وسائل کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کریں۔آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی ہدایت
آئی جی سندھ نے کہا کہ ڈی آئی جی ٹریفک کراچی TRACSسسٹم اور سہولت سینٹرز کے قیام سے متعلق ڈویژنل ڈی آئی جیز کو ضروری معلومات،ہدایات ورہنمائی فراہم کریں گے۔ تمام اضلاع ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی تصاویر کراچی میں قائم سینٹرلائزڈ "ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائیٹیشن سسٹم” (TRACS) کوارسال کرینگے۔ای ٹکٹ کا اجراء اور ترسیل سینٹڑلائزڈ سینٹر سے کیا جائیگا۔تمام ڈویژنل ڈی آئی جیز اپنے اضلاع میں سہولت سینٹرز اور متعلقہ عملہ کا تعین کرکے نوٹیفائی کریں۔
تیاریوں کا جائزہ لے کر مختلف شہروں میں فیس لیس ای ٹکٹنگ کا آغاز کردیا جائیگا۔آئی جی سندھ کا اعلان
