سیف سٹی فیز ٹو میں انٹیلیجنٹ ٹریفک سسٹم بھی شامل ہوگا:وزیراعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ سندھ سے اسپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام اور 28ویں نیشل کمانڈ کورس کے 47 شرکاء کی ملاقات
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے اسپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام اور 28ویں نیشل کمانڈ کورس کے 47 شرکاء کی ملاقات
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وفد کی سربراہی نیشنل پولیس اکیڈمی کے ڈپٹی کمانڈنٹ پی ایس پی سرفراز احمد فالکی کر رہے ہیں، ملاقات میں آئی جی پولیس غلام نبی میمن، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن اور سیکریٹری ٹو سی ایم عبدالرحیم شیخ بھی موجود
وزیراعلیٰ سندھ کا52ویں اسپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام اور 28ویں نیشل کمانڈ کورس کے زیرِ تربیت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس سے خطاب
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت پولیس کو ایک جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی فورس میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے، اسوقت 31 اضلاع کے 618 تھانوں میں پولیس کی نفری 1,31,850 اہلکاروں پر مشتمل ہے۔سندھ حکومت نے 189.7 ارب روپے کا سالانہ بجٹ پولیس کے لئے مختص کیا ہے۔سندھ پولیس برصغیر کی سب سے پرانی پولیس فورس ہے۔
وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہ سنہ 1843ء میں سر چارلس نیپئر نے رائل آئرش کانسٹیبلری کے ماڈل پر قائم کیا تھا۔سندھ پولیس پاکستان کی دوسری بڑی پولیس فورس بھی ہے،سندھ پولیس کو انتظامی اور عملی دونوں سطحوں پر اسٹریٹجک انداز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ہم نے سندھ پولیس کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کئے ہیں۔سندھ سیف سٹی پروجیکٹ ایک اہم منصوبہ ہے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سیف سٹی کا مقصد کراچی کو ایک محفوظ اور ٹیکنالوجی سے چلنے والا شہر بنانا ہے،شہر کراچی کے لیے جامع ویڈیو نگرانی اور ڈیٹا تجزیے کا نظام تیار کیا جا رہا ہے۔سیف سٹی میں اعلیٰ معیار کے سی سی ٹی وی کیمروں کا وسیع نیٹ ورک شامل ہے۔سی سی ٹی وی کیمرے چہرہ شناسائی اور خودکار نمبر پلیٹ شناختی نظام سے لیس ہیں،تمام ویڈیو فیڈز براہِ راست کمانڈ، کنٹرول اور کمیونیکیشن سینٹرمیں موصول ہوتی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سیف سٹی فیزون میں ریڈ زون اور ایئرپورٹ کوریڈور شامل ہیں،سیف سٹی پروجیکٹ فیز ٹو کی منظوری دی جا چکی ہے ۔سیف سٹی فیز ٹو کے تحت ضلع جنوبی، شرقی اور ملیر میں ہزاروں نئے کیمرے نصب کیے جائیں گے۔فیز ٹو میں انٹیلیجنٹ ٹریفک سسٹم بھی شامل ہوگا تاکہ ای-چالان کو بہتر بنایا جا سکے۔
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایس فور پروجیکٹ کو سیف سٹی پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے۔عوام کے تحفط اور سہولیات کے لئے پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنا رہے ہیں،صوبے کے مزید تھانوں کے نظام کو خودکار بنایا جا رہا ہے۔ایف آئی آرز، کیس فائلیں اور دیگر عمل کو ڈیجیٹل کیا جائے گا۔سندھ حکومت شفافیت اور عوامی سہولت میں اضافہ چاہتی ہے۔پولیس کا دریائی کچے کے علاقوں میں آپریشن جاری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے کے دوران 71 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈالے ہیں یہ پولیس کی اہم کامیابی ہے،پولیس کی منشیات سے وابستہ جرائم کا خاتمہ کے لئے کارروائیاں قابل تعریف ہیں،پولیس اہلکاروں کے لیے شہداء پیکجز، ہیلتھ کارڈز اور اسکالرشپس فراہم کیے جا رہے ہیں، فلاحی، تکنیکی اور انفراسٹرکچر اصلاحات سے عوامی تحفظ مزید مضبوط ہوگا۔
